ملک بھر میں گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث اشیائے خوردونوش، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں مال بردار گاڑیاں، ٹرک اور کنٹینرز اڈوں پر کھڑے ہونے سے تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں جبکہ عام شہریوں کو بھی آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سپلائی چین میں تعطل کے باعث منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے ملک گیر ہڑتال کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر سامان کی ترسیل رک جائے تو نہ صرف خوردونوش کی فراہمی متاثر ہوتی ہے بلکہ صنعتوں کی پیداوار، برآمدات اور کاروباری تسلسل بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے جائز مسائل حل کرے تاکہ سپلائی چین کا نظام بحال ہو سکے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔
ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی نے کہا کہ قوانین اور جرمانوں میں اچانک تبدیلیاں کیے جانے سے کاروباری طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ طرز عمل سرمایہ کار دوست نہیں ہے۔ پالیسی سازی کے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو ایسی پیچیدہ صورتحال جنم لیتی ہے جیسا کہ اس وقت ملک بھر میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کیے جائیں اور ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے دور کیا جائے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت نے اس بحران کے خاتمے کیلئے عملی پیشکش بھی کی ہے۔ صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر نے کہا کہ لاہور چیمبرحکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ثالثی کے طور پر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ مسائل مذاکراتی طور پر حل ہوں اور معیشت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
لاہور چیمبر کی قیادت نے زور دیا کہ حکومت نہ صرف ٹریفک آرڈیننس میں نظرثانی کرے بلکہ تمام فیصلے ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مشاورت سے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات کے ذریعے رسد نظام کی بحالی، عام شہریوں کیلئے سفری سہولت کی بحالی اور ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بچاؤ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔لاہور چیمبر نے امید ظاہر کی کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے جلد حل ہو جائیں گے اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے باعث ایکسپورٹ شپمنٹس تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں، فیکٹریوں کی پروڈکشن لائنز متاثر ہو رہی ہیں اور بزنس کمیونٹی شدید پریشانی سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مہنگائی اور کاروباری نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ٹرانسپورٹ الائنس کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تاکہ بحران مزید نہ بڑھے۔

