* وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے سندھ میں سرکاری زمین پر ہونے والے فراڈ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔ سندھ حکومت کی جانب سے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ایڈووکیٹ جنرل، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ، چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن بلال میمن اور چیئرمین اینٹی کرپشن ذوالفقار شاہ شریک ہوئے۔ قومی احتساب بیورو کی نمائندگی ڈی جی آپریشنز نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو ہیڈکوارٹرز امجد مجید اولکھ، ڈی جی نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (کراچی) شکیل احمد درانی، ڈائریکٹر (لینڈ) نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کراچی سید محمد آفاق اور ڈائریکٹر لینڈ ڈائریکٹوریٹ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو ہیڈکوارٹرز لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) حمزہ ممتاز نے کی۔اجلاس کے دوران قومی احتساب بیورو نے صوبے بھر سے بازیاب کرائی گئی سرکاری جائیدادیں حکومتِ سندھ کے حوالے کیں۔ چیئرمین قومی احتساب بیورو نے سرکاری زمین کی بازیابی سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ اس وقت قومی احتساب بیورو کے پاس 188 کیسز زیرِ کارروائی ہیں جن میں 154 انکوائریاں اور 34 تحقیقات شامل ہیں اور ان کیسز میں مجموعی طور پر 461,488 ایکڑ رقبہ شامل ہے۔اجلاس میں جن بازیابیوں کو نمایاں کیا گیا ان میں کراچی میں واگذار کرائی گئی635 ایکڑ شہری زمین ، کلفٹن بلاک اول اور دوم میں سمندر سے حاصل کی گئی 350 ایکڑ زمین؛ سجاول اور ٹھٹھہ کے جنگلات کی تقریباً 400,000 ایکڑ زمین اور جامشورو میں دیہ بابر بند اور ہتھال بٹھ میں 83 جعلی ریونیو اندراجات منسوخ کرکے بازیاب کرائی گئی قریباً 1,040 ایکڑ زمین شامل ہیں۔چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے سندھ حکومت، بالخصوص چیف سیکریٹری اور صوبائی انتظامیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں قومی احتساب بیورو اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان تعاون کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے غیرقانونی الاٹمنٹس کی نشاندہی اور منسوخی میں بورڈ آف ریونیو کے کردار کی بھی خصوصی تعریف کی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے قومی احتساب بیورو کی پیشہ ورانہ کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے مالیت کی زمین کی واپسی سندھ کے عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بازیاب شدہ زمین کو عوامی مفاد کے منصوبوں، جن میں پارکس اور تفریحی مراکز شامل ہیں، کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل طے کیا گیا، جس کے تحت سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس ٹاسک فورس میں بورڈ آف ریونیو، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور قومی احتساب بیورو کے سینئر افسران شامل ہوں گے جو ہر پندرہ دن بعد اجلاس منعقد کریں گے اور بحال شدہ سرکاری اثاثوں کے تیز رفتار تصرف کو یقینی بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جنگلات اور مینگروو کی زمین سے متعلق سمریوں کی جلد منظوری کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں تجاوزات کو روکا جا سکے۔
Read Next
1 دن ago
*حکومت سندھ اور آغا خان یونیوسٹی میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط*
2 دن ago
نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل ہیں،سید ناصر حسین شاہ
2 دن ago
*خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول 2026 میں شرکت*
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا جدید تین صوبائی ڈیٹا سینٹر کے قیام کا حکم، جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت*
2 دن ago
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس،غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لئے 15 روز کی مہلت
Related Articles
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا دورہ، جدید جی ائی ایس ٹیکنالوجی کی باقاعدہ رونمائی
3 دن ago
سید مراد علی شاہ کی امریکی سرمایہ کاروں کو سندھ میں توانائی، ٹیکنالوجی،انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور کثیرالقومی کمپنیوں کے نمائندوں کا گول میز اجلاس*
4 دن ago


