وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں پانی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر توانائی ناصر حسین شاہ، وزیر آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی شہر کو پائیدار، مؤثر اور طویل المدت پانی کی فراہمی سے متعلق مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کراچی میں پائیدار پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کے فور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی پروجیکٹ کے ذریعے شہر کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہمی کا ہدف مقرر ہے، جبکہ یہ منصوبہ کینجھر جھیل سے کراچی تک صاف پانی کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کے فور منصوبہ 2020 سے واپڈا کے تحت جاری ہے اور شہر کے اندر اس کی توسیع پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ایڈوانس پریشرائزڈ پائپ لائن سسٹم کے ذریعے کراچی کے پانی کی قلت کے مستقل حل کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور کی مکمل فعالیت کے لیے بجلی کی فراہمی سے متعلق مالیاتی طریقہ کار کو فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں کے فور توسیع منصوبے کے تحت تین اہم ریزروائرز، آر ون، آر ٹو اور آر تھری پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آر ون ریزروائر 65 ایم جی ڈی کی گنجائش کے ساتھ ضلع وسطی، شرقی اور غربی کو فوری سپورٹ فراہم کرے گا اور راضی گوٹھ سمیت متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی مستحکم کرے گا۔ آر ٹو ریزروائر 130 ایم جی ڈی کی توسیعی گنجائش کے ساتھ شہر کے بڑے حصے کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آر تھری ریزروائر 65 ایم جی ڈی کے ساتھ مغربی و وسطی کوریڈورز کو مضبوط کرے گا اور حب پمپنگ اسٹیشن تک سپلائی کی ترسیل ممکن بنائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کے فور گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمیشن لائنز کے معاہدے ہوچکے ہیں، جو پائیدار پانی پمپنگ کے لیے ضروری ہیں۔ سندھ کابینہ پہلے ہی ایکویٹی سرمایہ کاری اور قرض کی فنانسنگ کی منظوری دے چکی ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو کلری بگھار فیڈر (کے بی فیڈر) کی لائننگ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ نہر کے فور کے پانی کے کوٹے کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ محدود تعمیراتی وقت کے اندر اس منصوبے کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں، کیونکہ کوٹڑی بیراج دسمبر میں بند ہونے کے بعد کام کی رفتار تیز کرنا ناگزیر ہے۔ 50.989 ارب روپے کی لاگت کے اس منصوبے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں فنڈز فراہم کر رہی ہیں، جس سے روزانہ 510 کیوسک پانی کی بچت متوقع ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو حب ڈیم کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا، جہاں 1.075 ارب روپے کے واجبات جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حب ڈیم کی دیکھ بھال، ساختی سالمیت اور پانی کی فراہمی کے تحفظ کے اقدامات جاری رکھنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی (سندھ) اور حب (بلوچستان) دونوں کے لیے حب ڈیم ایک اہم منصوبہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آر بی او ڈی ڈرینج سسٹم کی فوری بحالی اور واپڈا سندھ آبپاشی کے مشترکہ اشتراک کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نکاسی آب کے نظام کو سیلابی نقصانات سے بچانا شہری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایت جاری کی کہ تمام منصوبوں کے فنڈز بروقت جاری کیے جائیں اور طے شدہ ڈیڈ لائنز ہر صورت پوری کی جائیں۔
Read Next
5 گھنٹے ago
*ڈنمارک کی سفیر سے ملاقات، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی گرڈ سے سستی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا منصوبہ پیش کردیا*
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میئر کاشف شورو کے ہمراہ کے ڈی ایس پی کے حیدرآباد چیپٹر کا افتتاح کردیا*
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا اجلاس*
3 دن ago
*سندھ اور ازبک صوبے ناوائی کے درمیان وسیع تعاون پر اتفاق*
5 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں سے معذرت،3 ماہ کے ہدف
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے ورلڈ بینک سندھ پراپرٹی ٹیکس ماڈرنائزیشن اینڈ انہانسمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات
7 دن ago
انجینئرڈ سینیٹری لینڈ فل سائٹ جام چاکرو کو جلد از جلد مکمل کیا جائے،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago
کریم آباد انڈر پاس کی سافٹ لانچنگ 30 اپریل کو کی جائے گی،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago


