شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک دوراندیش، عوام دوست اور تاریخ ساز رہنما تھے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک دوراندیش، کرشماتی اور عوام دوست رہنما قرار دیا جنہوں نے پاکستان کے سیاسی، آئینی اور دفاعی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ پیپلز سیکریٹریٹ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے ضلع ایسٹ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین کی سالگرہ پر پارٹی کارکنان اور حامیوں کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محنت سعید غنی، سینیٹر وقار مہدی اور دیگر رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس دن پیدا ہونے والا بچہ ایک غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل رہنما بنے گا جس کی خدمات نسلوں تک یاد رکھی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھٹو کی ابتدائی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ طالب علمی کے زمانے میں بھی شہید بھٹو نے قائداعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر ملک کے لیے جان قربان کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کھلے عام اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ مراد علی شاہ نے بھٹو خاندان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور شہید شاہنواز بھٹو نے جمہوریت اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید بھٹو کی تاریخی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے ملک کو 1973 کا آئین دیا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 90 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی، تھرپارکر کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کیا اور پاکستان کی دفاعی بنیادیں مضبوط کیں جس کے باعث آج پاکستان اپنے سے کہیں بڑی طاقتوں کے سامنے اعتماد کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کی مضبوط دفاعی صلاحیتیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی اسٹریٹجک سوچ کا نتیجہ ہیں۔ 1977 کے سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بھٹو کے خلاف شروع کی جانے والی تحریک اُن قوتوں کی پشت پناہی سے تھی جو کسی بھی مسلمان ملک کو مضبوط اور متحد دیکھنا نہیں چاہتیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو مسلم دنیا کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اسی لیے انہیں ایک خطرہ سمجھا گیا۔ سید مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ شہید بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں شہید بھٹو کی تاریخی تقریر کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے عوام کو وہ آواز دی جسے پہلے نظرانداز کیا جاتا تھا۔ ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچپن میں وہ اپنے والد کے ساتھ ایک مقامی سردار کے پاس گئے جہاں سینکڑوں لوگ زمین پر بیٹھے تھے اور چند کے لیے کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ بعد میں جب وہ دوبارہ وہاں گئے تو دیکھا کہ سب لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے جو شہید بھٹو کے دور میں عام آدمی کو ملنے والی عزت اور بااختیاری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران یہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی ہے جس کی بدولت عام کارکن دولت مند اور طاقتور امیدواروں کو شکست دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا شہید بھٹو نے ہمیں سکھایا کہ اصل طاقت عوام کے ووٹ میں ہے اور یہی عوام فیصلہ کرتے ہیں کہ کون حکمرانی کرے گا اور کون ان کی خدمت کرے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی اور یہی مشن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی عوامی خدمت کے اس مشن کو جاری رکھے گی۔ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بھٹو خود پیپلز سیکریٹریٹ آکر بیٹھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھٹو کو یاد کرنا چاہتے ہیں، انہیں لاڑکانہ یا پیپلز سیکریٹریٹ جانا چاہیے، کیونکہ یہ دونوں مقامات ان کی جدوجہد اور وراثت کی علامت ہیں۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے منتظمین کو کامیاب تقریب پر مبارکباد دی اور کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا جب تک انسانیت زندہ ہے، انسانیت کی خدمت کرنے والے اور عوام کو آواز دینے والے کبھی نہیں مرتے۔ بھٹو زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ تقریب سے صوبائی وزیر سعید غنی اور سینیٹر وقار مہدی نے بھی خطاب کیا جبکہ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پارٹی بانی کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔

جواب دیں

Back to top button