وزیراعلیٰ سندھ کا آبپاشی و زرعی منصوبوں کی تکمیل تیز کرنے کا حکم

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں آبپاشی کے نظام اور زرعی ترقی کو صوبے کی معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام کلیدی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ یہ منصوبے غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، ڈائریکٹر جنرل پی اینڈ ڈی الطاف ساریو اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پانی اور زراعت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کا مضبوط نظام سندھ کی زرعی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غذائی خودکفالت کے حصول اور برآمدات میں اضافے کے لیے آبپاشی کے انفراسٹرکچر کو جدید اور موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے کے قابل بنانا ناگزیر ہے۔سکھر بیراج کی اپ گریڈیشن

صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو سکھر بیراج پر جاری اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں نہری بندش کے دوران بیراج کے 27 دروازوں کی تبدیلی کا اہم منصوبہ شامل ہے۔ اس اپ گریڈیشن کا مقصد فصلوں کے عروج کے موسم میں پانی کی روانی میں خلل سے بچاؤ اور لاکھوں کسانوں کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے 25 دروازوں پر کام شروع کر دیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام 27 دروازوں کی تبدیلی مقررہ مدت میں مکمل کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی تاخیر سے غذائی تحفظ اور پانی کی دستیابی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

کے-فور منصوبہ: کے بی فیڈر کی لائننگ

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کو پانی کی فراہمی میں 50 فیصد اضافے کے لیے کے-فور منصوبے کے تحت کے بی فیڈر کی لائننگ کے کام کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبہ 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور جنوری کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ نے جزوی تکمیل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ موجودہ نہری بندش کے دوران کم از کم 70 فیصد کام مکمل کیا جائے تاکہ پانی کے ضیاع میں کمی آئے اور شہری و صنعتی ضروریات پوری ہو سکیں۔

نہروں کی صفائی اور دیکھ بھال

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نہروں کی باقاعدہ صفائی (ڈی سلٹنگ) اور دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پانی کی ترسیل بہتر ہو اور منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ عالمی بینک کے تعاون سے اکرم واہ کی ڈی سلٹنگ کا کام جاری ہے اور منظوری کے مراحل میں ہے، جبکہ دیگر نہری منصوبے بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے آئندہ فصل کے سیزن میں پانی کی قلت سے بچنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔

فنڈنگ، نگرانی اور جانچ پڑتال

وزیراعلیٰ سندھ نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور منصوبوں کی پیش رفت، اخراجات اور معیار کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر یا ناقص کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ آبی تحفظ، زرعی پیداوار اور شہری پانی کی فراہمی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور صوبے کے مجموعی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کی جائیں اور واضح کیا کہ کسی بھی تاخیر یا معیار میں کمی پر سخت احتساب کیا جائے گا، تاکہ ترقیاتی اہداف بروقت حاصل ہو سکیں اور سندھ کی معاشی ترقی کو تقویت ملے۔

جواب دیں

Back to top button