اے جی آفس کی طرف سےتین ارب تریسٹھ کروڑ دس لاکھ کے چیک جاری نہ ہوئے،صاف ستھرا خیبر پختونخوا منصوبہ متاثر

اے جی آفس خیبر پختون خوا کی مبینہ بدمعاشی سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت میں منظور ہونے والے خیبر پختون خوا کی ٹی ایم ایز کو صفائی کے لیے مشینری، گاڑیوں اور لوڈرز کی خریداری کے منظور تین اعشاریہ تریسٹھ بلین(تین ارب تریسٹھ کروڑ دس لاکھ) کے چیک جاری نہیں کیے جارہے. اے جی آفس کی جانب سے لوکل کونسل بورڈ خیبر پختون خوا کو صفائی کے لیے گاڑیوں کی خریداری کے لیے چیک جاری نہ کرنا جہاں صوبہ بھر کی ٹی ایم ایز کے ساتھ زیادتی ہے دوسری جانب صوبائی حکومت کا گرین اینڈ کلین، صاف ستھرا خیبر پختون خوا منصوبہ شدید متاثر ہورہا ہے اور مذکورہ فنڈز ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی، صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا کو نوٹس لینا چاہیئے اورخیبر پختون خوا کی ٹی ایم ایز کے لیے فوری طور پر صفائی کی گاڑیوں کی خریداری کے لیے مذکورہ فنڈز کے چیک جاری کرائیں

صفائی کے لیے مشینری، لوڈرز کی خریداری کے لیے خیبر پختون خوا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو فنڈز جاری کردیے گئے ہیں لیکن اپریل 2025میں صوبائی کابینہ کے منعقدہ تیسویں اجلاس میں ٹی ایم ایز کے لیے صفائی اور شہروں اور دیہاتوں میں گندگی کو ڈمپ کرنے کے لیے مشینری اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے منظوری دیے گئے اور بعدازاں صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبر پختون خوا نے بھی فنڈز کی منظوری کی کارروائی کرنے کے بعدفنڈز کے چیک اے جی آفس کی مبینہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے جاری نہیں کیے جارہے. عوامی سماجی حلقوں نے اے جی آفس خیبر پختون خوا کی ٹی ایم ایز کے ساتھ زیادتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلٰی سہیل خان آفریدی، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور چیف سیکرٹری سید شہاب علی شاہ سے مذکورہ فنڈز فوری جاری کرانے کا مطالبہ کیا ہے

جواب دیں

Back to top button