داسو پاور پروجیکٹ اور دیامر بھاشا پاور پروجیکٹ جیسے منصوبوں میں تاخیر ملکی خوشحالی کیلئے رکاوٹ ہو گی،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے داسو ہائیڈرل پاور پروجیکٹ کے سٹیئرنگ کمیٹی اور متاثرین داسو پاور پروجیکٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن میگا منصوبوں کا مقررہ مدت میں تکمیل قومی مفاد میں ہے۔ داسو پاور پروجیکٹ اور دیامر بھاشا پاور پروجیکٹ جیسے منصوبوں میں تاخیر ملکی خوشحالی کیلئے رکاوٹ ہوگا۔ ہماری خواہش ہے یکہ ان بڑے منصوبوں پر جاری کام بغیر کسی تاخیر کے جاری رہے اور مقررہ مدت میں ان منصوبوں کا کام مکمل ہو۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ داسو ڈیم کے جائز مطالبات کو حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے متاثرین داسو ڈیم اور واپڈا کے مابین قابل عمل معاہدہ طے ہونا لازمی ہے۔ داسو ڈیم میں 4 ہزار کنال زمین لرک اور گیال کے عوام کی زمین زیر آب آئے گی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرین کے جائز مطالبات کو بروقت حل کرنے اور معاہدے میں متعین ٹائم لائن پر واپڈا کو عملدرآمد کرنے سے داسو ڈیم کیلئے درکار زمین کا حصول بغیر کسی تاخیر اور مشکلات کے ممکن ہوگا۔ داسو سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ گیال، لرک، دیامرکے زمینوں کا معاوضہ تحت ایس ایم بی آر کے منظور شدہ ریوائز ریٹس بابت ضلع دیامر 2024 کے تحت ہوں گے۔گیال، لرک، دیامرکے زمینوں کا سابقہ سیکشن۔4 قانونی طور پر کالعدم قرار دے کر نیا سیکشن۔ 4 کا نفاذ کیا جائے گا۔گیال، لرک، دیامرکے زمینوں کے کیٹگری تحت داسو کوہستان کیٹگری کے تحت حیت زمین کا تعین ہوگا۔گیال، لرک، دیامرکے زمینوں کا معاوضہ ایک ساتھ ادا کیاجائے گا نیز حسب درخواست ڈی سی دیامرکو واپڈا مختص شدہ رقم بابت کمپنسیشن ٹرانسفر کرنے کا پابند ہوگا۔اگر کمپنسیشن رقم مقررہ مدت میں ٹرانسفر نہ ہونے کی صورت میں اندر میعاد ایک سال بعد کمپنسیشن ریٹس کو دوبارہ نظرثانی کی جائے گی۔تعمیرات کا ریٹ تحت پاک PWD،2022-23 کے تحت پیمائش کرکے مشترکہ ٹیم (انتظامیہ، واپڈا) کے ذریعے سے کیا جائے گا۔متاثرین کے چولہ پیکیج کے لئے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں چیئرمین واپڈا کے ساتھ خصوصی میٹنگ ہوگی اور اس میٹنگ میں چولہ پیکیج کے حوالے سے جو فیصلہ ہوگا وہ فریقین کو قابل قبول ہوگا۔مورخہ 26نومبر 2023 کی میٹنگ درمیان چیئرمین واپڈا اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے مطابق مندرجہ ذیل امور پر عملدرآمد کیا جائیگا۔داریل گیال میں ایک ماڈل ہائی سکول اور تانگیر لرک، دیامر میں 1ماڈل ہائی سکول قائم کئے جائیں گے۔بشرط یہ کہ وہاں 300 یا اس سے زیادہ طالب علم موجود ہوں۔داریل گیال میں 10 بیڈ ہسپتال اور تانگیر لرک میں 10بیڈ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔داریل 30 بیڈموجودہ ہسپتال اور تانگیر 30 بیڈ موجودہ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز سمیت حسب ضرورت HR کیلئے واپڈا Incentive فراہم کرے گا اور میڈیکل و نان میڈیکل سامان فراہم کیا جائے گا۔عوام لرک، دیامر اور گیال کو داسو کے CBM کا 10 فیصد حصے کے تحت نہری چینل لرک داس تانگیر میں تعمیر کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت داسو ڈیم کی سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی رحمت خالق، معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ مولانا سرور شاہ، جنرل منیجر ایل اے اینڈ آر،جنرل منیجر ڈی بی ڈی پی،ڈپٹی کمشنر دیامر،زبیر احمدنمبردار،فتح اللہ نمبردار،غلام نصیر نمبردار،محبوب الرحمن نمبردار،عبدالرقیب نمبردار،حاجی کشور خان نمبردار،حاجی شکرت خان نمبردار،معین الدین نمبردار،قدیر نمبردار،رحمت خالق نمبردار ودیگر نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button