خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلدیاتی اداروں کو درپیش شدید مالی بحران، تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیوں میں غیر معمولی تاخیر اور مختلف قانون سازی کے معاملات پر بھرپور بحث کا مرکز بن گیا، جہاں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے انتظامی کمزوریوں، بدعنوانی اور نظامی خامیوں کی نشاندہی کی۔مسلم لیگ (ن) کی رکن آمنہ سردار نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بلدیات کے ہزاروں ملازمین اور پنشنرز فنڈز کی کمی کے باعث تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے شدید مالی بحران کا شکار ہیں، بعض اضلاع میں تنخواہیں اور پنشنز ادا کی جا رہی ہیں جبکہ کئی اضلاع میں بلدیات کے اخراجات تک پورے نہیں ہو پاتے۔آمنہ سردار نے ایوان کو بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے اکاؤنٹ فور سے سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایم ایز بدعنوانی کا گڑھ بنتی جا رہی ہیں اور جب ملازمین کو مراعات نہیں ملتیں تو بدعنوانی میں اضافہ فطری عمل بن جاتا ہے۔جواب میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ٹی ایم ایز بااختیار ادارے ہیں اور اکثر اپنی تنخواہوں اور پنشن کا بندوبست خود کرتی ہیں، تاہم جہاں فنڈز کی کمی ہو وہاں صوبائی حکومت گرانٹ ان ایڈ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 1300 ملین روپے کی گرانٹ ٹی ایم ایز کو دی جا چکی ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض ٹی ایم ایز گرانٹ کو تنخواہوں کے بجائے دیگر مدات میں استعمال کر لیتی ہیں۔وزیر قانون نے مزید بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے نیا نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت گرانٹ ڈی سی کے اکاؤنٹ فور میں جائے گی تاکہ فنڈز کے غلط استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹی ایم ایز کی دکانوں کے لیز کرایے انتہائی کم ہیں جو نظام کی بڑی خرابی ہے۔ اسی تناظر میں سابق صوبائی کابینہ نے ان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے نئے لیز رولز تیار کیے، پرانے نوٹیفکیشن ختم کر دیے گئے ہیں اور اب مارکیٹ ریٹ کے مطابق لیزنگ کی جائے گی۔اے این پی کے رکن ارباب عثمان نے کہا کہ 2021 کے بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث صوبائی حکومت نے 2022 میں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار سے بے اختیار بنا دیا، جس کے نتیجے میں چار برسوں میں کوئی نمایاں ترقیاتی کام نہیں ہو سکا اور بلدیاتی اداروں پر بیوروکریسی مسلط کر دی گئی ہے۔
Read Next
2 دن ago
محمد سہیل خان آفریدی نے عیدالفطر کے موقع پر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی سہولت فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم پاکستان کو خط ارسال کر دیا
2 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ٹیوٹا کا اہم اجلاس
4 دن ago
خیبر پختونخوا، تنخواہوں سے محروم سینیٹیشن کمپنی کے 25 ملازمین کی برطرفی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا
4 دن ago
واسا کمپنی بنوں کے ملازمین کا چار ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پرپریس کلب بنوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
5 دن ago
پی پی پی فریم ورک کے تحت پشاور میں کچرے کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی تجویز منظور کر لی گئی
Related Articles
اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ بلدیات و دیہی ترقی تحصیل حسن خیل پشاور ملک ارشد خان کی جانب سے تمام ویلیج کونسل سیکرٹریز کو ہدایت جاری
5 دن ago
مئیر سٹی میٹروپولیٹن حاجی زبیر علی اور تحصیل چیئرمینز کے ساتھ گزارا گیا وقت خوشگوار، بامقصد اور یادگار دوررہا،اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلدیات ملک ارشد خان
6 دن ago




