گیارہ فروری سے بلدیاتی نمائندوں کا خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی دھرنے کا فیصلہ کر لیاگیا،انتظار خلیل

پشاور(بلدیات ٹائمز)خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتیں گزشتہ چار سال سے مفلوج ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو گزشتہ چار سال سے ترقیاتی فنڈز کیساتھ ساتھ قانونی آئینی اختیارات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔سابقہ وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور حکومت میں 12 اپریل 2022 میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ایسی ترامیم کی گئی جس سے خیبرپختونخوا کے مقامی حکومتیں مکمل مفلوج ہو گئ۔ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے زیر قیادت بلدیاتی نمائندوں نے متعدد بار بھرپور احتجاج کیے ہر بار بلدیاتی نمائندوں پر شیلنگ لاٹھی چارج کی گئی، گرفتاریاں کی گئی مگر خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کے حوصلے اج بھی بلند ہیں۔ سابقہ وزیر اعلیٰ محمود خان، سردار علی آمین گھنڈاپور کیطرف سے وعدے کیے گیے مگر پی ٹی آئی و نگران حکومت کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کرسکی۔ بلدیاتی نمائندوں کے 14 جنوری 2026 احتجاج کے موقع پر وزیر بلدیات، سکٹریری بلدیات کیطرف سے مقامی حکومتوں کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کیساتھ ہفتے کے اندر اندر ملاقات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر جنوری کا مہینہ گزرنے کے باوجود بھی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کیساتھ ملاقات تو ایک طرف وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، سکٹریری بلدیات کیطرف سے بھی ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا گیا جس پر خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمایندوں کے تشویش و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔جس پر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے 11 فروری سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔رابطہ کرنے پر کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتظار خلیل کا کہنا تھا کہ 11 فروری 2026 کو فیصلہ کن احتجاجی دھرنا شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے انتظامات کے لیے تیاریاں شروع کی گئی ہے۔ مختلف اضلاع کے ساتھیوں سے رابطے اور مختلف اضلاع کی سطح پر مشترکہ اجلاس بسلسلہ 11 فروری پشاور احتجاجی دھرنا میں ساتھیوں کی بھرپور شرکت کے لیے کمیٹی میاں محفوظ الرحمن کی قیادت میں فرہاد مروت لکی مروت، انتظار خلیل پشاور، ارباب وصال پشاور، ضیاء الرحمن پشاور،تیمور کمال پبی، محمد حمزہ تحصیل، نور قدیم شاہ تحصیل بڈھ بیر پشاور، پرویز خان تحصیل متھرا، شاہ فیصل نوشہرہ پر مشتمل قائم کرکے انکو زمہ داریاں تفویض کردی گئی ہے جب کے ضم اضلاع کے لیے تحصیل چئیرمین تاج ملوک، تحصیل چئیرمین لنڈی کوتل شاہ خالد، ملک صاحب خان، مولنا نیک محمد درویش، احمد خان، جاوید آفریدی باڑہ، شاہد آفریدی جمرود، اختر باز جمرود، نقاب شاہ مہمند، سید بادشاہ باجوڑ، احسان خان سنٹرل کرم، مفتی عمران ٹل، ثمر گل کرم،اختیار بادشاہ خیبر و دیگر بلدیاتی نمائندوں کو ضم اضلاع کے تمام تحصیلوں سے رابطے کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

انتظار خلیل کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چار سالوں سے مقامی حکومتوں کیساتھ ناروا بدترین ظلم جاری ہے۔انتظار خلیل نے خیبرپختونخوا کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، کارکنوں، عوام، تاجر تنظیموں، وکلاء، طلبا تنظیموں،سول سوسائٹی سے 11 فروری احتجاجی دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہنا یے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام شامل ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اپنے منشور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 11 فروری کو مضبوط مستحکم فعال بلدیاتی نظام کے بھرپور انداز میں نکل کر اس تحریک میں شامل ہو۔

جواب دیں

Back to top button