وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نوجوانوں کو بلا سود قرضہ اسکیم کی رقم 3 ارب سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے کا اعلان کر دیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیر اہتمام ینگ لیڈرز کنونشن میں شرکت اور خطاب کیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نوجوانوں کو بلا سود قرضہ اسکیم کی رقم 3 ارب سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے کا اعلان کر دیا، وزیر اعلی کا ینگ پارلیمنٹ کے لیے 2 ملین روپے گرانٹ کا اعلان کیا، وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جو قوم خوددار نہ ہو وہ ترقی نہیں کر سکتی، جعلی وزیر اعظم ایک خوددار قوم کی نمائندگی نہیں کر سکتا, ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جا کر پرائے ملک کےصدر کو سلوٹ مارتے ہیں،بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس ڈگریاں اور دولت ہو بلکہ وہ ہے جس کی سوچ بڑی ہو, قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب ملک کا درد سینے میں ہو,

2018 میں قبائلی اضلاع کا انتظامی انضمام ہوا مگر مالی انضمام تاحال نہیں کیا گیا، یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، ایک طرف ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا اور دوسری طرف وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، لوٹے گئے پیسوں سے کرپٹ حکمران بیرون ملک جزیرے اور فلیٹس خرید رہے ہیں، تیراہ متاثرین کے لیے مختص 4 ارب روپے پر شور مچایا جاتا ہے مگر اربوں کی کرپشن پر خاموشی ہے،ہم نے سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے، کوئی مقدس گائے نہیں ہوگی، پنجاب میں عملی طور پر سول مارشل لا نافذ ہے، سیاسی آزادی سلب کی جا چکی ہے, پنجاب کے حکمران آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی سوچ کے نمائندہ ہیں، پنجاب میں ہمارے لیڈرشپ کے سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ لے کر اس کی رجسٹریشن اور گاڑیوں کے چیسس نمبرز ٹیمپر کیے جا رہے ہیں، بزرگ سیاستدانوں کو ناحق قید کیا گیا، یہ انتقامی سیاست کی بدترین مثال ہے، عمران خان کی اہلیہ جو غیر سیاسی خاتون ہیں انہیں بھی ناحق قید کیا گیا، عمران خان کی بہنوں پر رات کے اندھیرے میں اڈیالہ کے سامنے زہریلا پانی چھوڑا گیا، عزت و ذلت اور زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مضبوط ایمان ہو تو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے، دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے جامع پالیسی ناگزیر ہے، بغیر پالیسی دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی، نوجوانوں نے ان مسائل پر ہر فورم پر آواز اٹھانی ہے، ہم محدود وسائل کے باوجود کارکردگی کی بنیاد پر تیسری بار حکومت کر رہے ہیں, اگر بقایاجات مل جائیں تو صوبے میں عوامی خدمت اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی، آپ سب نے ہمارا ساتھ دینا ہے اور صوبے کے مفاد کے خلاف ہر فیصلے کی مزاحمت کرنی ہے،جنازے اٹھانے سے بہتر ہے کہ زندہ قوم بن کر آواز اٹھائیں, ہم ایسی پالیسیاں لائیں گے جن سے صوبے کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے,

جواب دیں

Back to top button