کے ایم سی کی جانب سے چوکنڈی قبرستان میں عالمی معیار کے میوزیم اور ہیریٹیج سائٹ کے قیام کا فیصلہ

کراچی: کراچی کی عظیم تاریخی اور ثقافتی وراثت کو بحال اور فروغ دینے کے سلسلے میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے تاریخی چوکنڈی قبرستان میں میوزیم اور ہیریٹیج سائٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔سولہویں صدی میں مغل دور کے دوران تعمیر کیے گئے چوکنڈی کے خوبصورت اور نفیس نقش و نگار سے مزین مقبرے اس خطے کے نمایاں آثارِ قدیمہ اور فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں۔ یہ سنگِ سرخ سے تراشے گئے مقبرے کراچی کی صدیوں پر محیط ثقافتی اور فنی وراثت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے دورۂ چوکنڈی کے موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بین الاقوامی معیار کے میوزیم کے قیام، حفاظتی باؤنڈری وال کی تعمیر اور کشادہ عوامی مقامات کی ترقی کے لیے جامع فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے، تاکہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس منصوبے کا مقصد اس تاریخی مقام کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں متعدد تاریخی مقامات موجود ہیں جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت شہری انتظامیہ شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنے اور اپنی ثقافتی وراثت کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا، “ہم کراچی کا اصل تاریخی چہرہ بحال کرنا چاہتے ہیں اور اپنی وراثت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے، رسائی کو آسان بنایا جائے اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں شہری اور سیاح ہماری تاریخ اور فن پاروں سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔”میئر کراچی نے کے ایم سی حکام کو ہدایت کی کہ تمام تکنیکی و انتظامی جائزے جلد مکمل کیے جائیں اور منصوبے پر عملدرآمد رواں سال کے اندر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہری انتظامیہ اسی سال شہر میں واضح اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔منصوبے کے تحت رسائی کے راستوں کی بہتری، سیاحوں کے لیے سہولیات، لینڈ اسکیپنگ اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے اقدامات شامل ہوں گے تاکہ صدیوں پرانی فنِ تعمیر کو محفوظ رکھتے ہوئے زائرین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔دورے کے موقع پر ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد، چیئرمین یونین کونسلز، ڈائریکٹر میڈیا کے ایم سی دانیال سیال اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

جواب دیں

Back to top button