وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو سکھر بیراج بحالی و جدید کاری منصوبہ (ایس بی آئی پی) کے تیسرے سال کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی اور اسے سندھ کے آبپاشی تحفظ اور زرعی معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے شرکت کی۔ اجلاس میں بڑے سول، اسٹرکچرل اور مکینیکل اپ گریڈ، خصوصاً بیراج کے تاریخی گیٹس کی بڑے پیمانے پر تبدیلی پر غور کیا گیا۔
سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے وزیر اعلیٰ کو سائٹ پر جاری معائنوں اور پیش رفت سے آگاہ کیا، جن میں کوفرڈیم، بیراج پیومنٹ اور متعلقہ اسٹرکچرل اجزا پر کام شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ تیسرے سال کے کوفرڈیم (فیز دوم و سوم) نے بیراج کے تین بڑے زونز میں بھاری تعمیراتی سرگرمیوں کو ممکن بنا دیا ہے۔
*مکینیکل کام میں تیزی*
مکینیکل کام کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے گیٹس کی تبدیلی میں نمایاں پیش رفت کو سراہا۔ موجودہ مرحلے میں منصوبہ بند 27 نئے گیٹس (گیٹس 15 تا 43) میں سے 25 مکمل طور پر تیار کیے جا چکے ہیں، جو 96 فیصد سے زائد تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔ زنگ سے بچاؤ کے لیے 19 گیٹس کی پینٹنگ اور سینڈ بلاسٹنگ مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ متعلقہ حصوں میں پرانے ہوسٹنگ سسٹمز کی تنصیب ختم کرنے اور موجودہ گیٹس کی کٹنگ کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔لیفٹ بینک کینالز کی بحالی کا کام نارا کینال کے سوا 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جو تاحال جاری ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو نارا کینال کی بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
*سول کام اور ڈریجنگ*
سول کام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ رائٹ پاکٹ میں ڈریجنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ اپروچ چینل میں بلا تعطل پانی کی روانی یقینی بنانے کے لیے ڈریجنگ کا عمل جاری ہے۔زون وار پیش رفت کے مطابق زون-1 (اسپین 15 تا 23) میں ڈی واٹرنگ، ڈی سلٹنگ اور فرش و پیئرز کے جی پی آر سروے مکمل ہو چکے ہیں اور کنکریٹ اوورلے کا کام جاری ہے۔ زون 2 اور 3 میں شیٹ پائلنگ اور بیک فلنگ زیادہ تر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ مزید اسٹرکچرل مرمت کی تیاری کے لیے ڈی واٹرنگ اور ڈی سلٹنگ جاری ہے۔سکھر بیراج کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو تیسرے سال کی سرگرمیوں کی رفتار برقرار رکھنے اور ٹائم لائن پر سختی سے عمل یقینی بنانے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ یہ بیراج سندھ کے آبپاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نئے گیٹس کی تنصیب میں درستگی نہایت ضروری ہے تاکہ آبپاشی کے بہاؤ میں روانی برقرار رہے اور صدی پرانے اس ڈھانچے کی طویل المدتی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔مراد علی شاہ نے مزید ہدایت دی کہ فیز اوّل کے باقی ماندہ پنچ لسٹ نکات، بشمول گیٹس 44 تا 59 پر معمولی درستی کے کام، بلا تاخیر مکمل کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید کاری منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل سندھ کے آبی تحفظ، زراعت اور آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے روزگار کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔






