وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دی کڈنی سینٹر کے لیے صوبائی معاونت میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا، نئے کارڈیک کیتھیٹرائزیشن (کیتھ) لیب کے قیام کے لیے فنڈنگ کا وعدہ کیا اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے قومی سلامتی، پولیسنگ کے معاملات اور سیاسی تنازعات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔وزیر اعلیٰ نے دی کڈنی سینٹر میں میڈیا سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے سندھ حکومت کے تعاون سے قائم نئے انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کا افتتاح کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور اسپتال کی انتظامیہ شریک تھی، جن میں چیئرپرسن فرینڈز آف دی کڈنی سینٹر ماریانا کریم، بورڈ چیئرمین عدنان آفریدی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر راشد جوما، ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر سعید چشتی، ڈین ڈاکٹر عاصم احمد اور ہیڈ آف سرجری ڈاکٹر سلمان ال خالد شامل تھے۔
*صحت کے شعبے کو فروغ*
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت معتبر غیر منافع بخش اداروں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داریاں ہیں لیکن جب مخلص اور اہل شراکت دار دستیاب ہوں تو نتائج کہیں بہتر ہوتے ہیں۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال سے دی کڈنی سینٹر کے لیے سالانہ گرانٹ 30 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی جائے گی۔ انہوں نے اسپتال میں کیتھ لیب کے قیام کے لیے فنڈنگ کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ خود اس کا افتتاح کرنے واپس آئیں گے۔مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ دی کڈنی سینٹر کو ماضی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی جانب سے بھی معاونت حاصل رہی ہے جو اس ادارے کی قومی اہمیت اور ساکھ کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صحت کے شعبے کو 100 ارب روپے سے زائد کی گرانٹس فراہم کر رہی ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ ہر شہری کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات میسر ہوں۔
انہوں نے دی کڈنی سینٹر کی 41 برس کی بلا تعطل خدمات کو سراہا اور اس سے وابستہ فلاحی جذبے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے بچوں نے بھی اس ادارے کے لیے عطیات جمع کیے۔ ماریانا کریم کو چار دہائیوں پر محیط مسلسل فنڈ ریزنگ خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
*سلامتی کی صورتحال اور سرحدی کشیدگی*
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبصرہ کیا اور کہا کہ افغانستان سے اندھیرے کی آڑ میں حملے کی کوشش کی گئی، جسے مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ردعمل ہر اس شخص کے لیے واضح پیغام ہے جو پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحدوں پر بری نظر ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم نے ماضی میں بھی جارحیت کے مقابلے میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور “پوری قوم دشمن کے خلاف متحد ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً ایک ہفتے سے کشیدگی برقرار تھی اور انٹیلی جنس رپورٹس میں ممکنہ دہشت گرد خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے باعث احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کے حوالے سے اقدامات قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق جاری رہیں گے۔
*عمرکوٹ پولیس واقعہ*
عمرکوٹ میں حالیہ پولیس کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپریشن عدالتی احکامات کے تحت کیا گیا تاہم پولیس کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں پولیس نے کارروائی کی وہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انہوں نے صوبائی وزرائے داخلہ اور تعلیم سے ذاتی طور پر تفصیلات طلب کی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ سندھ حکومت کسی بھی قسم کی زیادتی، خصوصاً خواتین سے متعلق، برداشت نہیں کرے گی۔
*سیاسی مؤقف اور متحدہ قومی موومنٹ پر ردعمل*
سیاسی پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے مراد شاہ نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ جو چاہے کرے لیکن اس اجلاس میں جو کہا گیا وہ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے، جو صدر اور وزیر اعظم دونوں تک پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ایسے ریمارکس سندھ کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہیں۔وزیر اعلیٰ نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹے بیانیے دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔
*میڈیا اخلاقیات اور جعلی خبریں*
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بعض صحافیوں اور ٹی وی چینلز پر غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی صحافی بھی قیاس آرائیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور پھر ٹی وی چینلز وہی بیانیہ دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ بالخصوص ماہِ رمضان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم مین اسٹریم چینلز سے توقع ہے کہ وہ جعلی خبروں کو ہوا نہ دیں۔” انہوں نے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اینکر کی رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی بات چیت پر اپنے تحفظات وزیر اعظم تک پہنچا دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر قابل احترام عہدہ ہے، لیکن آئینی مناصب کے ساتھ متعین ذمہ داریاں وابستہ ہوتی ہیں۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر آئین کے مطابق فرائض انجام دیں گے۔
*ترقیاتی اور محنت کشوں کے مسائل*
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہر تنخواہوں کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والوں کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ متعلقہ حکام کو ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔اختتام پر وزیر اعلیٰ نے صحت کے اداروں کے استحکام، عوامی فلاح، قومی سلامتی کے تحفظ اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔






