سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی کے ترجمان و افسر تعلقات عامہ شکیل ڈوگر کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت سندھ کے ویژن اورصوبائی وزیربلدیات سعید غنی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے سندھ کے تمام اضلا ع میں غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کے لئے بلاتفریق و بلاتعطل بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رہیں۔سال 2024ء کے دوران کراچی کے 7 اضلاع سمیت سندھ بھر میں 1500 سے زائدغیرقانونی تعمیرات کے خلاف انہدام اور دیگرقانونی اقدامات عمل میں لائے گئے جو ایک سال میں غیرقانونی تعمیرات کے خلا ف ریکارڈ کارروائیاں ہیں۔ جس میں معززعدالتی احکامات کی تعمیل میں متعدد کارروائیاں بھی شامل ہیں،جبکہ 200سے زائد عدالتی پٹیشنز کو نمٹایاگیا۔۔ غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے اور سدباب کے سلسلے میں ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے عبدالرشید سولنگی حکومت سندھ کے زیروٹالرنس ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کررہے ہیں اس حوالے سے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے غیرقانونی تعمیرات میں ملوث کئی افسران واہلکاروں کو ملازمت سے معطل کیاگیا جبکہ کئی معاملات میں تحقیقاتی عمل جاری ہے جبکہ سال 2024ء کے دوران تعمیراتی قوائد میں پلان کے مطابق کارپارکنگ کی بحالی سمیت شہریوں کی اہم ضرورت کومدنظررکھتے ہوئے زیرتعمیرپروجیکٹ سائٹس پرپروجیکٹ سے متعلق مکمل قانونی تفصیل سے آگاہی کے لئے واضح طور پر QR-CODEکی تنصیب کو لازمی بنایا گیا ۔ترجمان ایس بی سی اے کے مطابق امسال 2652 کی تعداد میں پرائیویٹ پبلک سیل پروجیکٹ،ہاؤسنگ اسکیم، انڈسٹریل،کمرشل اور رہائشی بلڈنگز پلانزکی منظوری دی گئی، جبکہ صنعتی پلانز میں فیس میں تاخیر پر لگنے والے اضافی واجبات معاف کرنے سمیت ہر قسم کے پلانز کی سنگل ونڈو سے وقت مقررہ پر منظوری کے اقدامات نے عوام اور ایس بی سی اے کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کیاہے۔ ترجمان نے بتایاکہ ماہرتعمیراتی انجینئرز پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک /مخدوش عمارتوں کاسروے جاری رہا،رپورٹس کے مطابق کراچی میں اب تک 591،حیدرآباد ریجن میں 81، سکھر 60، میرپورخاص 07 اورلاڑکانہ ریجن میں 04، سمیت کل 743خطرناک عمار توں کی فہرست مرتب شدہ ہے جبکہ سال 2024ء کے دوران ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے کراچی میں حادثاتی آتشزدگی سے متاثرہ عمارتوں کا بھی بروقت معائنہ اور سروے رپورٹس مرتب کی گئیں۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ڈائریکٹرجنرل کی خصوصی کاوشوں سے شفاف طریقے سے گریڈ14سے 18تک افسران و اہلکاروں کی ڈی پی سی کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہوگیا اور اس سلسلے میں 72 افسران و اہلکاروں کو اگلے گریڈ پر ترقیاں دی گئیں ،جبکہ گزشتہ 4سال سے بندش کا شکار حج اسکیم کو دوبارہ بحال کیا گیا اور سال 2024ء میں بذریعہ قرعہ اندازی منتخب 07 افسران ودیگر10 ملازمین سمیت کل 17افراد کو ادائیگی فریضہ حج کے لئے مکمل سفری اخراجات کی رقوم فراہم کی گئیں۔ ترجمان ایس بی سی اے کے مطابق محکمہ نے اپنے اقدامات کے زریعے شہریوں کی خدمت کے ساتھ امیج کی بہتری پربھی بھرپور توجہ مرکوز رکھی اور اس سلسلے میں عملی مظاہرہ کرتے ہوئے غیرملکی مہمانان پر شہر سے متعلق پہلے مثبت تاثر کے سلسلے میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈڈیولپرز(آباد) اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی مدد وتعاون سے شاہراہ فیصل پر واقع عمارتوں اورسڑک کے دونوں جانب بیوٹی فیکیشن کی گئی جسے شہریوں کی جانب سے قابل تحسین عمل قرار دیاگیا۔ بیوٹی فیکیشن کے عمل سے متاثرہوکرعمائدین کی درخواست پر کورنگی انڈسٹریل ایریا میں بھی اسی نوعیت کی بیوٹی فیکشن کی منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے۔
Read Next
7 گھنٹے ago
سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں 6 ایم جی ڈی ریپڈ گریویٹی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے 22 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی
13 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا 45 ارب روپے کے SDGs پروگرام کا جائزہ،1082 اسکیمیں شروع کر دی گئیں
1 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کے ہمراہ پنو عاقل میں نئی سڑک کا افتتاح
3 دن ago
سندھ کابینہ نے گورننس، معیشت، تعلیم اور عوامی بہبود میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے دی
3 دن ago
سندھ کے بلدیاتی اداروں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے،مقامی سطح پر بہتری لانے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل،نوٹیفکیشن
Related Articles
سندھ حکومت نے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے معاون آلات کی فراہمی کی خاطر 800 ملین روپے جاری کر دیئے
3 دن ago
ایکسپو سینٹر میں منعقدہ جاب اینڈ ایجوکیشن فیئر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولے گا،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
4 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ نے انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا،13 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والی مہم میں ایک کروڑ 6 لاکھ بچے ہدف
6 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس، صدر زرداری کے دورہ چین میں طے پانے والے ایم او یوز پر عملدرآمد کا جائزہ
1 ہفتہ ago

