بلدیاتی ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی اکاؤنٹ فور سے یقینی بنانے کے لئے فوری احکام صادر کئے جا کر بلدیاتی ملازمین کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلائی جائے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز) بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کا واحد حل اکاؤنٹ فور سے وابستہ ہے ۔ صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز نے آج اپنے مطالبات کے حق میں مؤثر اور پر امن احتجاج ریکارڈ کرا کر اپنے اتحاد و اتفاق کا بھر پور مظاہرہ کر کے ثابت کیا ہے کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے متحد ہیں اور لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا گزشتہ 33 سالوں سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کے حصول اور تحفظ کے بر سر پیکار ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ عرصہ سے بلدیاتی ادارے مالی طور پر دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت نے وقتاً فوقتاً بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن کم کرنے شروع کر رکھے ہیں۔ جس سے بلدیاتی ادارے مالی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں جب کہ فی الوقت بلدیاتی اداروں سے وابستہ ہزاروں ملازمین اور پنشنرز کے بچے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے فاکوں سے دوچار ہیں۔کرونا وباء کے دوران صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن کے 120 سے زائد ٹیکسز ختم کئے جب کہ بعد ازاں عوام کو سہولیات کی فراہمی کے نام پر صوبائی حکومت کے ٹیکسز کو ختم کرنے کی بجائے بلدیاتی اداروں کے دو فیصد منتقلی جائیداد ٹیکس کو ایک فیصد کر کے بلدیاتی اداروں کے بڑے ذرائع امدن پر شب خون مارا۔یہی نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر سابق صلع کونسلز کو ختم کر کے انکے سٹاف اور پنشنرز جو TMAs کو حوالہ کر کے انکی اخراجات پر اخراجات کا اصافہ شامل کر دیا

جب کہ اس دوران رورل ڈویلپمنٹ کے محکمہ کو بھی ختم کر کے ان کے سٹاف کا اصافی بوجھ بھی TMAs پر ڈال دیا گیا۔ جب کہ ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لا کر نیا سٹاف بھرتی کر کے بلدیاتی عملہ فائر بریگیڈ کو غیر فعال کر کے بلدیاتی اداروں پر تاحال مالی بوجھ بنایا ہوا ہے۔ اس طرح بلدیاتی ادارے مالی طور ہر بہت ہی کمزور ہو گئے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔بلدیاتی ادارے اہنے ملازمین اور پنشنرز کو گذشتہ کئی کئی مہینوں سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے یہ ادارے صوبائی حکومت کی ایڈیشنل گرانٹ پر انحصار کر رہے ہیں مزید برآں صوبائی حکومت کی طرف سے بلدیاتی اداروں کے لئے مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم کی عدم فراہمی اور سابق فرسودہ اکاؤنٹنگ سسٹم پرسنل لیجر اکاونٹ کی وقتاً فوقتاً بندش اور توسیعی مراحل بھی بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں میں آڑے آتے ہیں۔جس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم ہیں اور ان کے بچے بھوک و افلاس اور فاکوں سے دوچار ہیں۔جس کی وجہ سے آج مجبوراً بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز نے لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کی کال پر صوبہ بھر کی اربن کونسلز میں مکمل ہڑتال عمل میں لا کر تمام میونسپل سروسز کو عوام کی فراہمی معطل رکھی ہے اور اپنے مطالبات کے حق میں مؤثر اور پر امن احتجاجی مظاہرے عمل میں لائے ہیں۔

صوبہ بھر کی TMAs جن میں مردان ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، کوہاٹ، ٹل، ھنگو، دوآبہ ، لاچی، بانڈہ داود شاہ، کرک، بنوں ، تخت نصرتی، سرائے نورنگ ، پہاڑ پور، درابن ، ٹانک، چار سدہ ، سوات ، منڈہ، صوابی، ٹوپی، نوشہرہ، پبی، غازی، ہری پور، حویلیاں ، مانسہرہ ، اوگی، بالاکوٹ ، بٹگرام ، الائی ، جدباء، دربند، خان پور اور کئی دوسری اربن کونسلوں میں تمام میونسپل سروسز معطل رہیں اور صوبائی حکومت کے محکمہ جات خزانہ ، قانون کی طرف سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی بزریعہ اکاونٹ فور کی سمری پر بے جا، غیر دانشمندانہ اعتراضات لگانے ، محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام کی سمری پر سرد مہری اور مہاندانہ رویہ کے خلاف اور فیڈریشن کے دیگر مطالبات کے حق میں بھر پور احتجاج کیا ہے۔ مزید برآں اس موقع پر لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کی سینئر قیادت سرہرست اعلیٰ شوکت کیانی، صدر حاجی انور کمال خان مروت ، چئیرمین محبوب اللہ اور جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن پاکستان کے مرکزی چیئرمین عبد الرحمن عاصی، صدر شوکت علی انجم اور جنرل سیکریٹری اسد محمود نے احتجاجی مظاہرین سے اپنے خطاب کیا اور مظاہرین کو پُرامن رہ کر اپنے مطالبات کے حق میں مؤثر احتجاج جاری رکھنے کی تلقین کی اور فیڈریشن عہدیداران نے اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی ، وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا میںا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ ، سیکریٹری مالیات کپٹن ریٹائرڈ کامران علی خان، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا ظفرالاسلام خٹک اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمان سے ہر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کے تعطل کو دور کرنے کے لئے اکاونٹ فور کے ذریعہ بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لئے فوری عملدرآمد کیا جائے اور خصوصی گرانٹ ، اکٹرائے شئیر ، UIP ٹیکس کے 25 فیصد بقایاجات بھی بلا تاخیر ریلیز کئے جائیں، سروس سٹرکچر پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، دستکاری سکولز کی بندش کے احکام واپس کرکے دستکاری سکولز بحال کئے جائیں، ریٹائرڈ بلدیاتی ملازمین کی پنشن ، گریجویٹی کی ادائیگی کے لئےخصوصی گرانٹ جاری کی جائے، واسا کمپنیز کے کمپنی کیڈر ملازمین کو دیگر مستقل ملازمین کی طرح تمام مراعات فراہم کی جائیں، ملازمین کے بچوں کی بھرتی کا کوٹہ بحال کیا جائے ، صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے ختم کئے گئے 120 ٹیکسز بشمول دو فیصد منتقلی جائیداد ٹیکس فوری بحال کئے جائیں تا کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کو بھوک و افلاس اور فاکوں سے نجات مل سکے اور ملازمین میں ہائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔یاد رہے کہ آج کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کے احتجاجی مظاہروں کی خاص بات بلدیاتی اداروں کے تمام ملازمین حاضر سروس پی یو جی ایف سٹاف اور ریٹائرڈ آفیسرز کی نان پی جی ایف سے اظہار یکجہتی دیکھنے کو ملی ہے۔

جواب دیں

Back to top button