کراچی میں پانی و سیوریج سمیت کارپوریشن کے جرائم پر ٹربیونل کا قیام،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر الدین شاہ کو چیئرمین جبکہ پانی اور سیوریج کے ماہر کا انٹرویو ہوگیا

کراچی میں پانی و سیوریج سمیت کارپوریشن کے جرائم پر ٹربیونل کا قیام،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر الدین شاہ کو چیئرمین جبکہ پانی اور سیوریج کے ماہر کا انٹرویو ہوگیا تقرری جلد ہوگی،تھانے کا قیام بھی جلد کیا جائے گا۔

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ٹربیونل میں پانی و سیوریج کے ماہرین کیلیئے من پسند افراد کی تعینات کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ پانی اور سیوریج کے ماہر کے تقرری کی کوئی تعلمی قابلیت نہیں، نہ تجربے کی ضرورت ہے،نہ عمر کی قید ہے۔ تقرری کیلیئے نہ اشتہار،نہ کسی فورم سے پیشکش طلب کی گئی۔ ایکٹ کے تحت گورنمنٹ نے شفاف انداز میں تقرری کے بجائے من پسند افراد کی تقرری کی خبر سے ٹربیونل پہلے ہی مشکوک بنادیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے پانی اور سیوریج کے ماہرین کے نام واٹر کارپوریشن سے مانگے تھے،جن میں دو ریٹائرڈ ہونے والے افسر بشمول سید محمد جمیل اختر اور منظور علی کھتری کا نام مسترد کردیا گیا۔پانی کے ماہرین میں سابق چیف انجینئر محمد منصور صدیقی، سابق چیف انجینئر سید اعجاز کاظمی، اور سیوریج کے ماہر ریٹائرڈ چیف انجینئر اعظم خان نے تقرری کے دوران طریقہ کار پر بطور احتجاج اپنی خدمات دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔ پانی کے ماہر سابق چیف انجینئر محمد حنیف بلوچ، چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کے سامنے پیش ہوگئے او ر سوالات کے جوابات دینے کے بجائے اپنی 35 سالہ ادارے میں خدمات اور تجربہ پیش کیا لیکن ان کا انٹرویو نہ ہوسکا۔ سیوریج کا کوئی افسر انٹرویو میں پیش نہ ہونے پر حاضر سروس محمد جمیل چیف انجینئر KWSSIP کا فرمائشی انٹرویو لیا گیا ہے۔انتخاب راج۰وت بیرون ملک ہونے کی وجہ پیش نہ ہوسکیں مصدقہ ذرائع کہنا ہے کہ پینل سے ایک ایک نام فائنل کرنا تھا وہ ہوگیا ہے دو ناموں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ ذرائعِ کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کو افسران کی میرٹ پر تقرری کا ٹاسک دیا گیا تھا۔انہوں نے سیکریٹری بلدیات سے خفیہ دو پینل بنانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو خط لکھا اور تین تین ماہرین کے نام طلب کیئے تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی کی مصروفیت کے باعث سیکریٹری بلدیات اور بعد ازاں چیف ایگزیکٹیو آٓٓفیسر کو انٹرویو اور نام فائنل کرکے ارسال کرنے کی ہدایت پر ایک دوسرا حاضر سروس کا انٹرویو ہوگیا ہے۔ کارپوریشن کے ذرئع کے مطابق سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر سید صلاح الدین احمد کے دستخط سے جاری ہونے خط میں ٹربیونل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک پانی کے تجربہ کار ریٹائرڈ افسر،دوسرے سیوریج کے ماہرین پر مشتمل افسران شامل ہیں۔ ایک میں تین تین افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔ پانی کے ماہرین میں سابق چیف انجینئر محمد منصور صدیقی، سابق چیف انجینئر سید اعجاز کاظمی اور محمد حنیف بلوچ شامل ہیں جبکہ سیوریج کے ماہرین میں سابق چیف انجینئر اعظم خان، سید محمد جمیل اختر اور منظور علی کھتری شامل ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات سندھ کو جو نام ارسال کیئے گئے ہیں ان میں پانی و سیوریج کے ماہرین کے چھ افسران کا نام براہ راست تجویز کیا گیا تھا۔خط نمبر KW&SC/MD/CEO/9 بتاریخ 9 جنوری 2025ء کو جاری کیا گیا تھا۔ جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ کے خط کا حوالہ نمبرںSO(HTP-IV)KW&SC/2025 بتاریخ 14 نومبر 2023ء درج ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر الدین شاہ کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پانی و سیوریج کے ماہرین کی تقرری کے بعد ٹربیونل اپنا کام شروع کر دے گا۔ ٹربیونل کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر الدین شاہ کی تقرری کردی گئی ہے۔ اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے باضابطہ حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے، وہ ٹربیونل کے چیئرمین ہوں گے، پانی، سیوریج کے ایک ایک ماہر کا انتخاب گورنمنٹ کرے گی یعنی سندھ حکومت تعینات کرے گی جس سے ٹریبونل کی حیثیت کام شروع کرنے سے پہلے ہی مشکوک ہو چکی ہے۔چیئرمین اور دو ممبران کا انتخاب تین سال کے لئے ہوگا اور کارکردگی پر ان کی خدمات ایک بار تین سال بڑھائی جاسکتی ہے۔ قانون کے مطابق ٹربیونل میں دی جانے والی درخواست یا شکایات پر 30 دن میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ٹربیونل ضابطہ فوجداری سول و فوجداری قانون،1908ء اور کوڈ آف کریمنل لاء (Cr;C)،1898ء کو بھی استعمال کرسکے گی۔ ٹربیونل کے قیام سے تمام بجٹ شیڈول کے تحت دیگر اخرجات کو مختص سندھ حکومت کرے گی۔ ٹربیونل کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ میں کرسکیں گے۔ ٹربیونل میں کارپوریشن کے بورڈ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے ارسال کی گئی دیگر ٹیکس کے واجبات کی وصولی، لائسنس کے اجراء کے ساتھ کارپوریشن کی ترجیحات اور ضائع ہونے والے پانی و سیوریج پر کاروائی کرنا شامل ہے۔ کارپوریشن کے تمام مقدمات اور شکایت کی سماعت صرف ٹربیونل کرے گی، کارپوریشن کا بورڈ اگر ایکٹ کے کسی شق میں رد و بدل یا ترامیم کرنا چاہے گی تو وہ گورنمنٹ سے مشروط ہوگی۔ ٹربیونل چوری کے کیس، فیس، نرخ کا تعین کے علاوہ دیگر قوانین اور زمینوں کے ایریاز کو سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ1967ء استعمال کیا جاسکے گا۔ ٹربیونل پانی، سیوریج کے کام میں تمام شکایات، چھان بین، جانچ پڑتال سمیت دیگر جرائم پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ پانی کے ضائع ہونے پر کم از کم دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔کارپوریشن کی اجازت کے بغیر یا لائسنس کے نہ لینے پر پانی کے کاروبار کرنے والے پر دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پانی و سیوریج کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر جرمانہ تین لاکھ روپے ہوگا۔ کاروباری سیوریج کا کچرا ڈالنے پر چار لاکھ روپے،پانی سیوریج لائنوں کو نقصان پہنچانے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پانی کی لائنوں مین کچرا ڈالنے، کپڑا، تولیہ و دیگر سامان ڈالنے والے پر پانچ لاکھ جرمانہ عائد ہوگا۔پانی کے میٹرز کو نقصان پہنچانے پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button