*مون سون میں معمول سے زائد بارشیں اور بروقت نکاسی آب کے اقدامات تاریخی ہیں۔ذیشان رفیق اوربلال یاسین کی پریس کانفرنس*

وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین اور وزیر بلدیات نے ڈی جی پی آر میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مون سون میں معمول سے زائد بارشیں اور بروقت نکاسی آب کے اقدامات تاریخی ہیں۔ ہر سال مون سون میں نکاسی آب کیلئے جو وقت درکار ہوتا تھا، اب تین گنا کم وقت لگے گا۔ گجرات جیسے نشیبی شہر نے بروقت نکاسی آب کا ان دنوں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ شہر لاہور میں ہلکی بارش کے بعد بھی لکشمی چوک میں پانی جمع ہونا عمومی تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے 500 ارب سے زائد بجٹ نکاسی آب کو بہتر بنانے کیلئے مختص کیے ہیں۔ وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے کہا کہ 5 بڑے شہروں سے 41 اضلاع تک نہ صرف واسا کا قیام بلکہ ہر ضلع میں عملہ بھی موجود ہے۔ جدید مشینری کی فراہمی سے دنوں کا کام گھنٹوں میں ہورہا ہے۔ 30 مئی سے صوبہ بھر میں ڈی سلٹنگ سے ساڑھے 6 لاکھ ٹن، 750 اوپن ڈرینز کی صفائی، لاکھوں مین ہولز صاف کروائے۔دوسرے صوبوں سے بھائی پنجاب کی سڑکوں اور بارش کا ذکر کرتے ہیں،آئیں آپکو ڈیجیٹل مانیٹرنگ دکھاتے ہیں۔بارش سے پانی ہی آنا ہے، کارکردگی یہ ہے کہ نکاسی کتنے دورانیے میں کی گئی،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشیں ماضی کی نسبت زیادہ ہورہی ہیں۔سندھ کے بھائی آزاد کشمیر الیکشن کے باعث جذباتی ہوگئے ہیں۔ کیا آزاد کشمیر والے کراچی بننا چاہیں گے یا لاہور جیسی سہولیات چاہتے ہیں؟؟ وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں طوفانی بارش کے بعد نکاسی آب کیلئے تمام شہروں میں تیز ترین آپریشن کا آغاز کیا گیا اور چند گھنٹوں کے اندر بارانی پانی کا نکاس کر دیا گیا۔ انہوں نے سندھ کے سنیئر وزیر کی تنقید پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں ”پنجاب کے شہر ڈوبے ہوئے ہیں“۔ میں سمجھتا ہوں کہ شرجیل میمن شاید کبھی پنجاب آئے ہی نہیں۔ پنجاب تیرہ، چودہ کروڑ عوام کا صوبہ ہے جہاں تمام ادارے وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں ٹیم ورک کے ساتھ چلتے ہیں۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام 500 ارب روپے کا میگا پروگرام ہے جو 70 شہروں میں چل رہا ہے۔ ابھی صرف پی ڈی پی کا 25 فیصد کام ہوا ہے تاہم اس کے باوجود وہ شہر جہاں کئی کئی روز بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا وہاں دو تین گھنٹوں میں نکاس ممکن بنایا گیا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب کو سندھ بنانے کی بات کوئی نہیں کرتا البتہ سندھ کو پنجاب کے برابر لانے کا مطالبہ ضرور کیا جاتا ہے۔ آج لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ سمیت متعدد شہروں میں 250 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی لیکن الحمداللہ ابھی جا کر دیکھیں تو تمام علاقے کلیئر کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے تحت 130 انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج ٹینک بنائے گئے جو برساتی پانی کے نکاس کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح ری چارج کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ یہ اگلے پچیس سال کی ماسٹر پلاننگ کر کے ترقیاتی پروگرام بنایا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button