پنجاب حکومت نے ضلعی انتظامیہ کے نئے تنظیمی ڈھانچے سے بلدیاتی اداروں کے رہے سہے اختیارات بھی سلب کر لئے ہیں۔پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کا دعوٰی کرنے والی حکومت نے اسے انتظامی طور پر مفلوج اور ضلعی انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔آئین پاکستان کے برعکس مقامی حکومتوں کو کمزور اور اپاہج کر کے ضلعی انتظامیہ اور بیورو کریسی کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
واضع رہے کہ پنجاب کے بلدیاتی ادارے پہلے مالی اور انتظامی معاملات کے محتاج تھے جو اب ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کر دیئے گئے ہیں۔جس سے مکمل انتظامی اور مالی کنٹرول چھین لیا گیا ہے۔فنکشنل ڈسٹری بیوشن ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر کے پاس پرنسپل سٹاف آفیسر ڈپٹی کمشنر، ڈی سی آفس سے متعلقہ امور،لا اینڈ آرڈر ،کوآرڈینیشن، کرائسس منیجمنٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس ریونیو کورٹ کے کیسیز اور معاملات، لینڈ ریکارڈ ،آبیانہ، ایگری انکم ٹیکس کے امور ہونگے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ کوپیرا، انسدادتجاوزات،پرائس کنٹرول، سپیشل پلاننگ، ایکسائز، اور پی آر اے کے امور سونپ دیئے گئے ہیں۔یہ نئی اسامی تخلیق کی گئی ہے جس میں زیادہ اختیارات بلدیاتی اداروں کے سلب کئے گئے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے پاس ستھرا پنجاب، واسا،پی ایچ اے،صاف پانی،لوکل گورنمنٹ ایڈمنسٹریشن جیسی اہم ذمہ داریاں ہونگی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایف اینڈ پی کافنانس اینڈ پلاننگ، ڈویلپمنٹ سکیمز،ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن اتھارٹیز کے امور ہونگے۔






