بلدیہ عظمٰی لاہور کے گلبرگ زون کو ہائی جیکر چلانے لگا۔حفیہ ہاتھ کے باعث غیر قانونی تعمیرات کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈپٹی کمشنر اور چیف آفیسر ایک بیورو کریٹ کے ایم سی ایل سے فارغ کئے گئے ٹاؤن پلانر بھائی کے آگے ڈھیر ہو چکے ہیں۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق گلبرگ زون کا شعبہ ٹاؤن پلاننگ میں کام کرنے والے اے زیڈ او کی حیثیت کلرک سے زیادہ نہیں۔زون کی لگام کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔اس وقت صرف علامہ اقبال روڈ اور نکلسن روڈ پر بڑی تعداد میں غیر قانونی تعمیرات مکمل کی جا رہی ہیں۔بیشتر مکمل کروائی جا چکی ہیں۔ان غیر قانونی تعمیرات میں سے کسی کا نقشہ پاس نہیں، کوئی دو یا تین منزلہ پاس ہے۔اوپر کے فلور غیرقانونی تعمیر کروائے جا رہے ہیں۔بعض میں بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیاں پائی گئی ہیں۔اگر ایم سی ایل کے میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ کی جانب سے گلبرگ زون سے اصل فائلیں منگوا کر تعمیرات کو موقع پر چیک کیا جائے تو حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔اورنج لائن اسٹیشن بوڑھ والا چوک نکلسن روڈ سے ملحقہ سلائی مشینوں والی مارکیٹ کے عقب میں رہائشی ایریاز کو ماسٹر پلان کے برعکس غیر قانونی کمرشل تعمیرات کروا کر کمرشل زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
جہاں چند سالوں میں رہائیشیں کم اور کمرشل تعمیرات زیادہ ہو چکی ہیں۔کینٹ،صدر،دھرم پورہ ،گڑھی شاہو،کینال روڈ،جی ٹی روڈ،شمالی لاہور،کوئین میری کالج روڈ،نکلسن روڈ،سمیت مصروف ترین سڑکوں کی ٹریفک جو ریلوے اسٹیشن، بادامی باغ اور لاہور سے باہر جانے کیلئے استعمال ہوتی ہے دن بدن سکڑ رہی ہے۔ہائی لیول ڈیزائن کمیٹی کا کردار بھی اس مصروف ترین سڑک پر غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے حوالے سے غیر موثر ہے۔گلبرگ زون میں تعینات ایک ٹاؤن پلانر کو مختلف شکایات پر واپس محکمہ بلدیات بھیج دیا گیا۔جس کے بعد بیورو کریٹ بھائی جان کی انٹری ہوتی ہے جو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی سی اور چیف آفیسر کو بے بس کر دیتی ہے۔درخواستیں بھی چل رہی ہیں،انکوائری بھی،غیر قانونی تعمیرات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے گلبرگ زون ہائی جیک ہے۔متعلقہ اعلٰی حکام کی،عدم دلچسپی ولاتعلقی بتاتی ہے کہ وہ طاقت کے آگے سرنڈر کر چکے ہیں۔






