خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک وفد نے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا دورہ کیا، جہاں انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ منصوبے ستھرا پنجاب پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وفد کو سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ لوکل گورنمنٹ آسیہ گل اور ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین نے پروگرام کے مختلف پہلوؤں، اہداف اور کامیابیوں سے آگاہ کیا۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آسیہ گل نے کہا کہ ستھرا پنجاب اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہے جو شہری اور دیہی علاقوں میں ویسٹ مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا کنٹرول ڈویژنل سطح سے ضلع سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے انتظامی نگرانی مزید مؤثر ہو گی اور بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔آسیہ گل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ستھرا پنجاب کو ایک مثالی اور منفرد ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں قلیل مدت میں اس پروگرام نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ستھرا پنجاب کے دوسرے مرحلے میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق صوبے بھر میں یومیہ پچاس ہزار ٹن ویسٹ جمع کیا جا رہا ہے، جس سے بائیو گیس، بجلی اور کھاد پیدا کرنے کے لیے متعدد غیر ملکی کمپنیوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ستھرا پنجاب ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن سسٹم، GPS فلیٹ ٹریکنگ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر مبنی ہے، جبکہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور شہری ایپ کے ذریعے سروس کی شفافیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔بابر صاحب دین کے مطابق فوربز سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے ستھرا پنجاب کو ایک جدید اور مؤثر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قرار دیا ہے۔دورے کے اختتام پر صحافیوں نے ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی، شفاف نظام اور جدید سہولیات کو سراہتے ہوئے اسے ایک کامیاب اور قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا۔





