اعلیٰ عدلیہ کے منافی سرگرمیوں کی وجہ سے نان پی یو جی ایف ملازمین میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز) لوکل کونسل بورڈ کی طرف سے اپنے چہیتوں کو نوازنے کے لئے اہل عملہ کو بھی تھرڈ ڈویژن کی بناء پر نا اہل کیا جاکر ابزارپشن کی دوڑ سے باہر کرنا قرین انصاف نہ ہے اور ایسا کرنا سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی صریحاً خلاف ورزی کے مترادف ہے۔بلدیاتی ملازمین نان پی یو جی ایف کو 2014 سے 2024 تک ابزارپشن کا حق نہ ملنا اور غیر مستحق اور اپنوں کو آگے لانے سے بلدیاتی ملازمین کی حق تلفی کی جا رہی ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے منافی سر گرمیوں کی وجہ سے نان پی یو جی ایف ملازمین میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔

سال 2014 سے لے کر تاحال 2024 تک زائد از 400 پوسٹوں کا کوٹہ نان پی یو جی ایف سٹاف کا بنتا ہے اگر اتنی تعداد میں نان پی یو جی ایف سٹاف کو پی یو جی ایف میں Absorp نہ کیا گیا تو ملازمین کے حق کے احتجاج عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا پختونخوا کے عہدیداران شوکت کیانی،محبوب اللہ، حاجی انور کمال خان مروت اور سلیمان خان ہوتی نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔

لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے صوبائی حکومت بذریعہ وزیر اعلیٰ ، وزیر بلدیات خیبرپختونخوا ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی و سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ سے پر زور مطالبہ کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی پاسداری عمل میں لاتے ھوئے اہل نان پی یو جی ایف ملازمین کو سال 2014 سے تاحال کوٹہ کے مطابق حسب سابق محکمانہ امتحان کے بعد ابزارپشن کا حق دیا جائے اور غیر مستحق لوگوں کو ابزارپشن کا بے جا حق دینے پر ملازمین احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں بصورت دیگر بلدیاتی ملازمین سڑکوں پر حق لینے کے لئے نکلیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button