عوام کو صفائی کی معیاری سہولیات فراہم کرنا وزیراعلی مریم نواز کا ویژن ہے، ذیشان رفیق کا سی ای اوز کے اجلاس سے خطاب

وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں قائم ستھرا پنجاب کنٹرول روم میں اجلاس ہوا۔ سیکرٹری بلدیات شکیل احمد، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل، ایڈیشنل سیکرٹری ماریہ طارق اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ سی ای اوز نے اب تک کی کارکردگی اور شکایات کے ازالے پر پریذینٹیشن دی جبکہ وزیر بلدیات نے درکار ہیومن ریسورس کی بھرتی کیلئے ہدایات جاری کیں۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنٹریکٹرز کی موبلائزیشن اور مشینری کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ کنٹریکٹرز 3 ماہ میں مشینری اور انسانی وسائل کے چیلنجز ٹھیک کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے ڈیٹا صوبائی کنٹرول روم کو بھجوایا جائے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ نئے نظام کی کامیابی کیلئے آغاز میں زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ نئے ویسٹ انکلوژرز کی تعمیر پر خاص توجہ دیں۔ سویپنگ اور ڈی سلٹنگ کا کام شیڈول کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیہات میں یونین کونسلز کی سطح پر مانیٹرنگ ہونی چاہیئے۔ ذیشان رفیق نے سی ای اوز کو ہدایت کہ فیلڈ سٹاف کی حاضری آن سپاٹ چیک کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں بلنگ کا میکانزم بنایا جائے گا۔ عوام کو صفائی کی معیاری سہولیات فراہم کرنا وزیراعلی مریم نواز کا ویژن ہے۔ وزیراعلی کے اہداف میں کوئی ابہام نہیں، ہر صورت میں حاصل کریں گے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ عوام کی شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہونے پر ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل سطح پر سیٹ اپ بنانے کا مقصد موثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ وزیر بلدیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ درپیش چیلنجز کا ٹیم ورک کے ساتھ سامنا کریں گے۔ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ گلی محلوں میں صفائی کافی نہیں بلکہ خالی مقامات پر بھی کوڑا اٹھایا جائے۔ کمرشل ایریاز کی صفائی کی الگ حکمت عملی بنائی جائے۔ وزیر بلدیات نے کمرشل ایریاز میں صفائی کیلئے سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہائی ویز کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ وہاں میکینکل سویپنگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے فوائد پر شہریوں میں آگاہی مہم بھی چلائیں۔

اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ہدایت کی کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز اور مانیٹرنگ ٹیمیں باقاعدگی کے ساتھ فیلڈ کے دورے کریں۔ کنٹریکٹرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں۔ آپس میں تجربات بھی شیئر کریں۔

جواب دیں

Back to top button