وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق، وزیر مواصلات و تعمیرات ملک صہیب احمد بھرتھ، پارلیمانی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خرم خان ورک، سیکرٹری بلدیات شکیل احمد اور دیگر متعلقہ افسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام میونسپل خدمات کیلئے صوبائی سطح پر اتھارٹی کے قیام پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ بلدیات اور محکمہ ہائوسنگ کے افسروں پر مشتمل ذیلی کمیٹی قائم کی گئی جو 4 اکتوبر تک موجودہ قوانین میں ترامیم کے لئے اپنی سفارشات اور تجاویز پیش کرے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ سینی ٹیشن اور واٹر سپلائی ہر علاقے کا بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نکاسی آب اور واٹر سپلائی جیسی خدمات ایک اتھارٹی کے تحت ہونی چاہئیں۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف چاہتی ہیں کہ ایک ادارہ تمام میونسپل خدمات پر جوابدہ ہو۔ مجوزہ پنجاب واٹر سپلائی، سیوریج، سینی ٹیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈبلیو ایس ایس ایس ڈبلیو ایم اے) کے لئے نئی بھرتی کرنے کی بجائے دستیاب افرادی قوت کو بروئے کار لائیں گے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت ضروری نہیں کہ کسی شہر میں نئی واسا قائم کرنے کیلئے وہاں ڈویلپمنٹ اتھارٹی موجود ہو بلکہ پنجاب حکومت جہاں مناسب سمجھے گی وہاں واسا قائم کر سکے گی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ نئی واساز کے قیام کیلئے موجودہ قوانین میں ترامیم پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری میونسپل خدمات کی فراہمی مریم نواز شریف کا ویژن ہے۔ وزیر مواصلات و تعمیرات ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ بلاشبہ ایک کام ایک ہی ادارے کی ذمہ داری ہونی چاہیئے۔ محکمہ قانون ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ، واٹر ایکٹ، ایل ڈی اے ایکٹ میں ترمیم پر اپنی رائے دے۔
پارلیمانی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خرم خان ورک نے کہا کہ ایک کام متعدد محکموں کے سپرد کرنے سے پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ میونسپل خدمات کی فراہمی کی بنیادی ذمہ داری محکمہ بلدیات کی ہے۔ نئی اتھارٹی کے قیام سے کئی پیچیدگیاں ختم ہو جائیں گی۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کہا کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس تک مسودہ قانون پر کام مکمل کرلیں گے۔ جس کے بعد رپورٹ وزیراعلی کو پیش کی جائے گی۔






