وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ایک اجلاس کے دوران وزیراعلٰی مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب پروگرام اور لاہور میں صفائی کے نئے ماڈل پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب شکیل احمد میاں اور ایڈیشنل سیکرٹری ماریہ طارق بھی شریک ہوئے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی(ایل ڈبلیو ایم سی) کے سی ای او بابر صاحب دین نے نئے ماڈل کے مختلف پہلوئوں پر بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب کو زیرو ویسٹ کرنا وزیراعلی مریم نواز شریف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس وقت لاہور کی 13 ملین آبادی ہے اور شہر میں یومیہ 5500 ٹن کوڑا جمع ہوتا ہے۔ صفائی کے نئے ماڈل کے تحت سو فیصد ڈور ٹو ڈور ویسٹ کولیکشن یقینی بنائی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے پورے لاہور کو نئے ماڈل کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لاہور کے دیہی علاقے بھی شامل کئے جائیں گے۔ اس ماڈل کو موثر بنانے کے لئے نئی مشینری اور درکار افرادی قوت کا تخمینہ بھی لگایا جائے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ گھروں سے کوڑا وصول کرنے کے ساتھ ہر علاقے کی ہفتے میں 3 بار سویپنگ بھی کی جائے گی۔ انہوں نے ایل ڈبلیو ایم سی کے سی ای او سے کہا کہ کوڑے میں سے ری سائیکل ہونے والی اشیا کو الگ کرنے کا بھی جائزہ لیں۔ بالخصوص کمرشل علاقوں میں صفائی کے چیلنجز کو مدنظر رکھا جائے کیونکہ کمرشل علاقوں میں کسی بھی وقت کوڑا دوبارہ جمع ہو سکتا ہے۔ لاہور میں اس وقت 300 بڑی اور 200 چھوٹی مارکیٹیں ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور کی گوالہ کالونیوں میں پیدا ہونے والے مویشیوں کے فضلے سے بائیو انرجی پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بائیوانرجی سے متعلق کمپنیوں سے رابطہ کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیر بلدیات نے زور دیا کہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیز کو بھی ایل ڈبلیو ایم سی کے دائرہ کار میں لانا چاہیئے اور ضروری ہوا تو اس کے لئے قواعد و ضوابط میں ترمیم بھی تجویز کی جائے۔ اجلاس کے دوران لاہور کے مختلف ٹائونز کی صفائی کی ضروریات پر پریذینٹیشن بھی پیش کی گئی۔
اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کہا کہ وزیراعلی کے ویژن کے مطابق صفائی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن وسائل مہیا کئے جائیں گے۔





