وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں لاہور کی 18 مارکیٹوں میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ایل ڈی اے اور ایم سی ایل تجاوزات کے خلاف مشترکہ کارروائی کرے گی۔

اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری بلدیات، کمشنر لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے، ایم ڈی واسا سمیت دیگر نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسی رضا نے بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور ڈویلپمنٹ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے لاہور ڈویلپمنٹ پلان پر پیشرفت میں تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے لاہور کی سڑکوں،گلیوں، بازاروں میں ناقص صفائی پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور بہتر ی کے لئے تین دن کی مہلت دے دی۔ اجلاس میں لاہور کی 18مارکیٹوں میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ازخود شہر کی روڈز کی مرمت کرنی چاہیے۔ سی ایم جہاں سے گزرے وہ سڑک بن جاتی اور صفائی ہو جاتی، خود کیوں نہیں کرتے؟۔ مرکزی سڑکوں کا پیچ ورک ترجیحی بنیادوں پر پہلے کیا جائے۔ سڑک کے درمیان گڑھا پڑنے سے گاڑی گر جاتی ہے تو ذمہ دار کون ہوگا۔ وزیر اعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ مین سڑک پر کوئی گڑھا نظر نہیں آنا چاہیے۔ ایل ڈی اے کا روڈ مینٹیننس یونٹ کو فعال اور متحرک کیا جائے۔ غیر قانونی پارکنگ ختم کرکے فٹ پاتھ کلیئر کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے کی مہم میں تاجر برادری کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ فٹ پاتھ پر سے سامان کو ہٹایا جائے، بائیک اور ریڑھیوں کے لئے مارکنگ کی جائے۔ہر مارکیٹ میں موٹر بائیک کی پارکنگ کے لئے جگہ مختص کی جائے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں 213 مقامات پر موجود 2598 مویشی شہری حدود سے باہر منتقل کئے جائینگے۔ لاہور میں مختلف مقامات جھونپڑ پٹی پر1800سے زائد ٹینٹ میں غیر قانونی لوگ آباد ہیں۔ دیواروں پول اور پلرز سے پوسٹرز اترے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پہلے مرحلے میں فارمرز سے بات چیت کرکے رضا کارانہ طور پر مویشی نکالنے پر آمادہ کرنے کی ہدایت کی۔ سینیٹرپرویز رشید، سینئر منسٹر اورنگزیب، وزیر اطلاعات وثقافت عظمیٰ زاہد بخاری، وزیر بلدیات ذیشان رفیق، معاون خصوصی ذیشان ملک،چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹریزبلدیات، ہاؤسنگ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، واسا، ایل ڈبلیو ایم سی حکام بھی موجود تھے۔






