لاہور میں بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ،پتنگوں پرکسی شخصیت کی تصویر یا سیاسی جھنڈے پر بھی پابندی

لاہور میں بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے اہم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی ہو گی۔30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد ہو گی۔

لاہور میں بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا۔دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل؛ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومتِ پنجاب نے لاہور میں 6 تا 8 فروری کو محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی۔بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکومت پنجاب نے بسنت کے دوران امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کیں۔پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔حکومت پنجاب نے خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دی ہے۔مقررہ تواریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button