چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا نے عالمی یوم ماحولیات 2025 کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں یو این ہبیٹٹیٹ، والڈ لائف، موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) اور گرین مارگلہ ہلز فرینڈ سمیت سینی ٹیشن، انوائرمنٹ ونگ کے افسران و ملازمین نے شرکت کی۔ تقریب کے انعقاد کا مقصد اسلام آباد شہر میں گرین ایریاز، ماحول دوست شجرکاری اور صفائی ستھرائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکے۔

چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ میں سب سے پہلے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور سب کو یہاں خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو میری طرف سے آپ سب کو بہت بہت عید مبارک، انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے اسلام آباد کے تمام شہریوں سے کہ قربانی ضرور کریں مگر صفائی کا بھی ضرور خیال رکھیں، کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے ہم نے اسلام آباد کے اندر تقریباً 100 سے زائد قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو تلف کرنے کیلئے حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق گڑھے بنائیں ہیں، بنیادی طور پر اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آلائشوں کو زمین کے اندر دفن کیا جائے تاکہ ماحول کے اندر آلودگی پھیلنے کا اندیشہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو تلف کرنے کیلئے خصوصی طور پر بائیوڈ بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک بیگز بنائے گئے ہیں جنکو شہریوں میں بھی تقسیم کیا جارہا ہے اور لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر بھی پہنچایا جارہا ہے۔ یہ بائیوڈ بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک بیگز اسلام آباد کے تمام کمرشل مراکز میں بھی موجود ہیں، اسی طرح مساجد کے باہر بھی ان بیگز کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اگر اسلام آباد کے کسی رہائشی کو بائیوڈ بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک بیگز نہیں ملے تو وہ ہم سے رابطہ بھی کرسکتا ہے۔ اسکا مقصد یہ ہے کہ اندر قربانی کے جانور کی آلائش رکھیں اور کسی بھی جگہ دفن کردیں یا سینی ٹیشن کی ٹیم جب آپکے گھر آئے تو انکے حوالے کردیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے ہر حال میں اسلام آباد کو صاف ستھرا رکھنا ہے، کوشش کریں کہ قربانی قربان گاہ میں کریں اور اگر کسی وجہ سے آپ کو قربانی کیلئے مناسب جگہ نہیں مل رہی اور آپ سڑکوں پر قربانی کررہے ہیں تو پھر بھی جانوروں کی آلائشوں کو بائیوڈ بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک بیگز میں ڈال دیں اور اسکو زمین میں دفن کریں یا سینی ٹیشن کی ٹیم کے حوالے کردیں۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی کو اپنائیں کیونکہ اگر ہم صفائی کو اپنائیں گے تو ہم گرین انوائرمنٹ کے اندر اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عید ضرور منائیں مگر ہر حال میں صفائی کا خیال رکھیں اور درخت بھی ضرور لگائیں۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ یہ ضرور یاد رکھئیے گا کہ عید کے موقع پر جو ہمارا قربانی کا جزبہ ہے اسکو ضرور یاد رکھیں اپنے ساتھ ساتھ ان غریبوں کو بھی جو قربانی نہیں کر پارہے رہیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ بہت سارے ایسے اقدامات ہیں جس سے درخت لگا کر نہ صرف گرین ایریاز کو بڑھایا جاسکتا ہے بلکہ اسکے ماحول پر بھی مستقل بنیادوں پر مثبت اثرات ہونگے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا اس وقت ہمارے ایجوکیشن سسٹم میں تقریباً 230000 بچے ہیں اگر ہر بچہ بھی دو دو درخت اپنے اور اپنی فیملی کے نام پر لگائے تو ہم 500000 سے زائد درخت لگا سکتے ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے پورے پاکستان میں ایک واحد ادارہ ہے جو درخت اور شجرکاری کرنے کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے اور یہ بہت سارے ڈویلپر اور ماہرین بیٹھے ہیں جو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ درخت اور پودے لگانے کی کیا لاگت ہوتی ہے لیکن اسکی جتنی بھی لاگت ہوگی وہ ہماری آنے والی نسلوں کی بھلائی کیلئے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بھی تفصیلی بریفننگ اور پریزنٹیشن دی ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ صرف درخت اور پودے لگانا ہی ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر مکمل قابو پایا جاسکے۔






