سنگت ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن کی طرف سے زاہد اسلام نے حکومت کو تجاویز دی ہیں کہ یونین کونسل کے علاوہ سربراہان کے ڈائریکٹ انتخابات ختم کردیں۔
انتخابات کیلئے ای وی ایم طریقہ اختیاری کر دیں۔ کمیشن کی صوابدید پر اور ڈھانچہ میں تبدیلی تجویز کر دیں مگر متناسب نمائندگی کا طریقہ بحال رکھیں فنکشنز ویسے ہی رکھیں ۔ صوبائی کنسولیڈیٹیڈ فنڈز کا 25 فیصد مختص رکھیں تو ۔ اتفاق ہوسکتا ہے۔موجودہ اور مقصود دونوں کا ٹال میل ۔ٹال میل سے مراد ھے کہ 2022 کا رائج الوقت اور 2022 کا حمزہ حکومت اور 2013 کے تحت قائم ادارے جو نئے قانون کے مطابق ڈھالے نہیں جا سکے بوجوہ۔اسطرح حکومت اور اپوزیشن عارضی اتفاق رائے ممکن ھے اور الیکشن کمیشن بھی زیادہ تردد نہیں کرے گا اور تیار حلقہ بندیوں کے مطابق تین یا چار ماہ میں انتخابات ممکن ہیں ۔اس طرح یہ تاثر بھی زائل ھو سکے گا حکومت بدلتی ھے تو سسٹم بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022ء پر غور کرنے والی کمیٹی میں ماہرین اپوزیشن اور سول سوسائٹی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے بلکہ عام مشاورت کی جائے جیسے 2001 میں کی گئی تھی اس طرح سبھی سٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کی جا سکے گی۔





