وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عبداللہ شاہ غازی کو روحانیت کا روشن استعارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوفی بزرگوں کی تعلیمات انسانیت، بھائی چارے اور دوسروں کی خدمت کا درس دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مزار ہر آنے والے کو عزت، سکون اور برکت عطا کرتا ہے۔ صوفی روایت کا پیغامِ محبت اور برداشت آج بھی ہمارے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بات عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر حاضری اور تین روزہ عرس کی اختتامی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کے ہمراہ وزیر زکوٰۃ و اوقاف ریاض شاہ شیرازی بھی موجود تھے جبکہ سیکریٹری زکوٰۃ مرید راہموں اور دیگر اعلیٰ افسران نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مراد علی شاہ نے دعا مانگی، مزار پر چادر چڑھائی اور مزار پر موجود مستحقین میں کپڑے تقسیم کیے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عبداللہ شاہ غازی کو سندھ کی روحانیت کا روشن مینار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوفی بزرگوں کی تعلیمات انسانیت، بھائی چارے اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مزار ہر زائر کو عزت، سکون اور برکت عطا کرتا ہے جبکہ صوفی روایت کا پیغامِ محبت و برداشت آج بھی معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے عرس میں شرکت کرنے والے زائرین کی سہولت و آرام کے لیے مکمل انتظامات یقینی بنائے ہیں۔ اس موقع پر وزیر زکوٰۃ و اوقاف ریاض حسین شاہ شیرازی نے وزیر اعلیٰ کو تقریب کے انتظامات اور فراہم کردہ سہولیات پر بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے سندھ کے روحانی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے کی گئی کوششوں کو بھی سراہا۔
مراد علی شاہ نے ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صوفی بزرگوں کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ انہوں نے آج کے دور میں اتحاد اور برداشت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدار عبداللہ شاہ غازی اور سندھ کے دیگر روحانی بزرگوں کی لازوال میراث ہیں۔عرس حضرت عبداللہ شاہ غازی کے وصال کی 1295ویں برسی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ آپ نہ صرف اسلام کے ایک بہادر سپاہی اور مبلغ تھے بلکہ امام حسن رضی اللہ عنہ کی نسل سے بھی تھے۔ اس روحانی موقع پر ہزاروں عقیدت مندوں نے ملک بھر سے شرکت کی جو سندھ کے ثقافتی کیلنڈر کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔مراد شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کا کام تنقید کرنا ہے اور میں اسے کبھی ذاتی نہیں لیتا۔ تاہم تنقید کو بدتمیزی یا غیر مہذب رویے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ باہمی احترام کو برقرار رکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو بھی سندھ کے صوفیوں کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہ ہماری ثقافت اور روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی تعلیمات ہمارے درمیان بھائی چارے اور محبت کو فروغ دیتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مراد شاہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ طویل عرصے سے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور سندھ کی ترقی کے لیے محنت کی ہے۔بھارت کی جارحیت سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا لیکن چند دنوں میں ہی بھارت کو اس کے نتائج کا اندازہ ہو گیا۔ جب پوری قوم اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہو تو ظالموں کو بالآخر اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہر شخص اپنا کردار ادا کرتا ہے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ یہی جذبہ ہمیں اپنے ملک کے دفاع میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔مراد شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے بین الاقوامی میڈیا میں مؤثر انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا جس کے بعد حکومت نے انہیں سفارتی وفد کی قیادت کے لیے بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی سفارت کاری کی وجہ سے دنیا کا پاکستان کے بارے میں نقطہ نظر تبدیل ہوا ہے جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مراد شاہ نے کہا کہ اس کے بھی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جن سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تقویت ملی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل کراچی پہنچیں گے اور ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے وطن سے محبت کرنے والے تمام پاکستانیوں سےاپیل کی کہ وہ ایئرپورٹ پر آکر ان کا استقبال کریں کیونکہ چیئرمین بلاول بھٹو کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کا نقطہ نظر واقعی تبدیل ہوا ہے اور ہمیں ان پر فخر ہے۔یہ بیانات وزیراعلیٰ سندھ نے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر میڈیا سے گفتگو کے دوران دیے جن میں سندھ کی سیاسی صورتِ حال اور قومی دفاع سے متعلق اہم پیغامات شامل تھے۔






