اکاؤنٹس رولز میں ترامیم،پنجاب کے بلدیاتی ادارے اربوں روپے کے منافع سے محروم،اکاؤنٹس اسٹیٹ بینک کے سپرد

پنجاب لوکل گورنمنٹس اکاؤنٹس رولز2017 میں ترامیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ بلدیات اور محکمہ قانون کی جانب سے رولز میں ترامیم کی گئی ہیں۔جس کے مطابق بلدیاتی اداروں کے اہم اکاؤنٹس اب اسٹیٹ بینک سے آپریٹ ہونگے۔صوبائی مالیاتی کمیشن آیوارڈ کے تحت ملنے والا بلدیاتی اداروں کا پی ایف سی شیئر، یو آئی پی ٹیکس شیئر، ٹی ٹی آئی پی ٹیکس ،سپیشل گرانٹس انھیں اکاؤنٹس میں منتقل ہوگا۔چیف آفیسرز اور لوکل فنڈ آڈٹ کے افسران کو نکال کر اب اکاؤنٹس کے شعبہ کا سربراہ ہی مجاز آفیسر ہوگا۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹس رولز 2017 میں ترامیم کی گئی ہیں۔

قوانین میں ترامیم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی ادارے اربوں روپے کے سالانہ منافع سے محروم ہو گئے ہیں۔صرف بلدیہ عظمٰی لاہور کو کروڑوں کا دھچکا لگا ہے۔واضع رہے کہ بلدیاتی اداروں کے اپنے اکاؤنٹس ہیں جو سیونگ اکاؤنٹس کہہ سکتے ہیں جن سے روزانہ کا منافع شامل ہوتا ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشنز،ضلع کونسلز اور میونسپل کمیٹیوں کے بجٹ میں منافع کا اہم کردار تھا۔اسٹیٹ بینک بلدیاتی اداروں کو کسی قسم کا منافع ادا نہیں کرے گا۔یہ بات اہم ہے کہ جو آمدن کے ذرائع اور وسائل اسٹیٹ بینک کو منتقل کئے گئے ہیں بلدیاتی اداروں کی 80 فیصد کے قریب بجٹ اسی آمدن پر بنتا تھا۔بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسی کا حصہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button