وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے لیے سرنڈر پالیسی، سال 2025 کی گندم ریلیز پالیسی، تیل کمپنیوں سے انفراسٹرکچر سیس کی وصولی دوبارہ شروع کرنے، ایل بی او ڈی ملازمین کی ریگولرائزیشن کی منظوری دی گئی جبکہ صوبے بھر میں ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے آپریشن پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے۔یہ اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے بینیوولنٹ فنڈ کے نوٹیفکیشن کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔سندھ ایمپلائز الائنس نے 3 اکتوبر 2025 کو چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کو مطالبات کا چارٹر پیش کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کے لیے بینیوولنٹ فنڈ صرف وفات یا معذوری کے بجائے ریٹائرمنٹ کے وقت بھی دیا جائے۔کابینہ نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس میں فنانس، جنرل ایڈمنسٹریشن، آئی اینڈ سی، لا اور ڈائریکٹر بینیوولنٹ فنڈ کے سیکریٹریز شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی بینیوولنٹ فنڈ کے استعمال کے طریقہ کار پر غور کرے گی اور جنرل پرویڈنٹ فنڈ کی طرز پر اس کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔کمیٹی ملازمین کی شراکت، ادائیگی کے فارمولے، فوائد کے ڈھانچے، اور قانونی ترامیم سے متعلق سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے لیے سرنڈر پالیسی
کابینہ نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے کچے کے علاقوں کے لیے ڈاکوؤں کی سرنڈر پالیسی کی منظوری دی جس کا مقصد امن قائم کرنا، ریاست کے وقار کو برقرار رکھنا اور دریا کے کنارے واقع علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سیکیورٹی آپریشنز اور مقامی کمیونٹی سے مذاکرات کے بعد متعدد ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پالیسی قانون کے مطابق ایک شفاف اور انسانی بنیادوں پر مبنی طریقہ کار مہیا کرے گی۔پالیسی کے اہم نکات میں اسلحہ کی لازمی ضبطگی، خاندانوں کا تحفظ، بحالی اور روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی شامل ہیں۔ حکومت ان علاقوں میں اسکولوں، صحت، ویٹرنری اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی بحال کرے گی تاکہ امن و استحکام برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ پالیسی کے شفاف نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور عوام میں آگاہی مہم کے ذریعے سرنڈر کو امن و بحالی کے راستے کے طور پر اجاگر کیا جائے۔
گندم اجرا پالیسی
کابینہ نے مالی نظم و ضبط اور قیمتوں میں استحکام کے لیے گندم ریلیز پالیسی 2025–26 کی منظوری دی۔کابینہ نے پہلے 27 فروری 2025 کے اجلاس میں چھوٹے کاشتکاروں کے مفاد کے تحفظ کے لیے گندم فوری طور پر جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم محدود ذخائر، ربیع 2024–25 میں کم پیداوار اور مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث کابینہ نے فلور ملوں اور چکیوں کے لیے 12 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ گندم 100 کلوگرام تھیلے کے لیے 9500 روپے کے اوسط نرخ پر جاری کی جائے گی۔ریلیز پالیسی کے دو مقاصد ہیں، آٹے کی قیمتوں میں استحکام لا کر عوام کو ریلیف دینا اور گندم کی فروخت سے حاصل شدہ رقم سے بینک قرضے واپس کر کے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا۔
محکمہ خوراک اکتوبر 2025 سے مرحلہ وار گندم کی تقسیم شروع کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے شفاف عمل درآمد کی ہدایت کی تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے اور مارکیٹ میں کسی قسم کی ہیرا پھیری نہ ہو۔
انفراسٹرکچر سیس
کابینہ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے تیل کی درآمد پر سندھ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کی وصولی سے متعلق سمری پر غور کیا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 36 تیل کمپنیاں جن میں پاکستان اسٹیٹ آئل بھی شامل ہے، اس معاملے میں ملوث ہیں۔ مجموعی سیس کی رقم 102.545 ارب روپے ہے جس میں سے 49.736 ارب روپے 2022–23 اور 52.809 ارب روپے 2023–26 سے متعلق ہیں۔
نوٹ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے تیل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے سیس کے مساوی بینک گارنٹیاں جمع کرائیں۔
کابینہ نے پاکستان اسٹیٹ آئل اور دیگر تیل کمپنیوں کی جانب سے دی گئی ضمانتیں واپس لینے اور سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق بینک گارنٹیاں جمع کرانے کے فیصلے کی منظوری دی۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ عدالت کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ صوبائی آمدنی کے تحفظ اور سندھ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایل بی او ڈی ملازمین کی ریگولرائزیشن
کابینہ نے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) منصوبے کے 78 دیہاڑی دار ملازمین جن میں 50 درخواست گزار اور 28 غیر درخواست گزار (الیکٹریشنز اور مکینکس) شامل ہیں، کی ریگولرائزیشن کی منظوری دی۔
یہ ملازمین واپڈا سے سندھ حکومت کو منصوبہ منتقل ہونے کے بعد سے کنٹی جنٹ بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ میرپورخاص بینچ کی ہدایت پر ان کے کیسز دوبارہ زیر غور لائے گئے جس میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ طویل اور تسلی بخش سروس اور 2018 کے قانون کے تحت وہ ریگولرائزیشن کے مستحق ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ عمل شفافیت کے ساتھ اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔
سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف)
کابینہ نے سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی دوبارہ تشکیل کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فنڈ 2011 میں صوبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔نئی تشکیل کے تحت وزیر یا مشیر برائے سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ سیکریٹری انویسٹمنٹ، سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل بورڈ کے ممبران ہوں گے۔آزاد ممبران میں عثمان المانی، میہر مصطفیٰ قاضی، عثمان جاوید مرزا اور مہرین عبید آغا شامل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیا بورڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے فروغ اور روزگار و سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں فعال کردار ادا کرے گا۔
ٹائر پائرولیسس پلانٹس پر پابندی
کابینہ نے صوبے بھر میں ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے آپریشن پر مکمل پابندی عائد کر دی تاکہ فضائی آلودگی اور عوامی صحت کے خطرات پر قابو پایا جا سکے۔
سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا، جس کے مطابق پائرولیسس سرگرمیاں زہریلے اور خطرناک مادے خارج کر کے کراچی کی ہوا کو آلودہ کر رہی ہیں۔
کابینہ نے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت ’’سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پریوینشن آف یوز آف سب اسٹینڈرڈ فیول/ٹائرز) رولز 2025‘‘ کی بھی منظوری دی، جس کے تحت غیر معیاری ایندھن اور ٹائر پائرولیسس آئل (ٹی پی او) کی پیداوار، فروخت اور استعمال پر پابندی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے سیپا کو ہدایت دی کہ پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیار، بشمول باسل کنونشن اور یو این ای پی کے رہنما اصولوں پر عمل یقینی بنایا جائے۔
پراپرٹی ٹیکس
کابینہ نے اربن امویبل پراپرٹی ٹیکس (یو آئی پی ٹی) کے نظام کو سالانہ کرایہ جاتی قدر (اے آر وی) کی بنیاد سے سرمایہ جاتی قدر (سی وی) کی بنیاد پر منتقل کرنے کی منظوری دی جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے قومی ٹیکس ہم آہنگی اقدامات کا حصہ ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ اے آر وی سسٹم 2001 سے غیر فعال ہے اور مارکیٹ کی موجودہ حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ نیا سی وی سسٹم زیادہ منصفانہ اور شفاف ہوگا اور اس کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ نظام ورلڈ بینک کے تعاون سے ’’کلک پراجیکٹ‘‘ کے تحت کراچی پراپرٹی سروے کے بعد نافذ کیا جائے گا جس سے جنوری 2026 تک مزید 20 لاکھ پراپرٹیز ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اصلاحات پراپرٹی ٹیکسیشن کو منصفانہ، شفاف اور پائیدار بنائیں گی۔ کابینہ نے محکمہ بلدیات کو اس حوالے سے مسودہ قانون تیار کرنے کی ہدایت کی۔
وفات کے سرٹیفکیٹ کی فیس ختم
کابینہ نے سندھ بھر میں عوام کے لیے وفات کے سرٹیفکیٹ کے اندراج کی فیس ختم کر دی۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے سول رجسٹریشن اور وائٹل اسٹاٹکس (سی آر وی ایس) نظام کی بہتری کے تحت کیا گیا۔ اب صوبائی حکومت نادرا کی سروس چارجز برداشت کرے گی، تاکہ شہری مفت میں وفات کے سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں۔ کابینہ نے یہ اقدام شہری سہولت اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کے فروغ کے لیے کیا۔وراثتی اسناد سے متعلق ترامیم
کابینہ نے سندھ لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ اور رولز 2021 میں ترامیم کی منظوری دی تاکہ وراثت کے حصول کا عمل آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔ نئی ترامیم میں نابالغ اور ذہنی معذور ورثاء کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ جھوٹے بیانات دینے والے افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 198 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی بورڈ
کابینہ نے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (ایس آئی ٹی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ آزاد ڈائریکٹر عزیر باوانی کے استعفے کے بعد کابینہ نے نعیم زامندار کو نیا آزاد ڈائریکٹر مقرر کیا، جنہیں جدت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
سینئر سٹیزن کونسل
کابینہ نے ’’سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ 2014‘‘ (ترمیم شدہ 2023) کے تحت تین سالہ مدت کے لیے تیسری سینئر سٹیزن کونسل کی تشکیل کی منظوری دی۔ یہ کونسل وزیر سماجی بہبود کی سربراہی میں قائم ہوگی اور بزرگ شہریوں کی فلاح کے لیے پالیسیاں مرتب کرے گی، جن میں سینئر سٹیزن کارڈز کے اجرا کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ممبران میں فنانس، صحت، بلدیات، زکوٰۃ و عشر، ٹرانسپورٹ اور فوڈ و ایگریکلچر کے سیکریٹریز اور اسپیکر کی جانب سے نامزد اراکین صوبائی اسمبلی شامل ہوں گے۔ نجی اراکین میں عبداللہ بٹ، طارق رمضان بلیدی، ضمیر احمد درانی، انعام رحمانی اور محمد اسلم شیخ (ریٹائرڈ) شامل ہیں۔
آغوش اسپیشل چلڈرن اسکول کا انتظام سندھ حکومت کے حوالے
کابینہ نے کراچی کے گلشنِ حدید، بن قاسم میں واقع آغوش اسپیشل چلڈرن ہائر سیکنڈری اسکول کا انتظام پاکستان اسٹیل ملز سے محکمہ برائے خصوصی افراد (ڈی ای پی ڈی) کے حوالے کرنے کی منظوری دی۔یہ فیصلہ پاکستان اسٹیل ملز کی جانب سے اپنے تعلیمی ادارے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کی رضامندی کے بعد کیا گیا۔ یہ اسکول 252 خصوصی طلباء کو تعلیم فراہم کر رہا ہے اور 52 عملے کے ارکان پر مشتمل ہے۔کابینہ نے مالی سال 2025–26 کے لیے عملے کی تنخواہوں، اخراجات اور دیکھ بھال کے لیے 5 کروڑ 34 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ یہ انتظام ابتدائی طور پر 10 سال کے لیے ہوگا، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ منتقلی کے دوران خصوصی طلباء کی تعلیم اور نگہداشت کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کمپنی کا قیام
کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں ایک سیکشن 42 کمپنی قائم کرنے کی منظوری دی تاکہ تحقیق اور اختراع کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ این ای ڈی یونیورسٹی مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، سائبر سیکیورٹی اور روبوٹکس کے قومی مراکز کے ساتھ اختراعات کا مرکز بن چکی ہے جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک جلد متعارف کرایا جائے گا۔نئی کمپنی صنعت کے ساتھ روابط بڑھانے اور تحقیق کو تجارتی شکل دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔ کمپنی کا مجاز سرمایہ 50 لاکھ روپے اور ابتدائی فنڈنگ 9 کروڑ 70 لاکھ روپے ہوگی جبکہ بورڈ کی سربراہی وائس چانسلر کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے این ای ڈی کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سندھ میں جدت، صنعت و جامعہ تعلقات اور معیشت میں تحقیق کے کردار کو مضبوط کرے گا۔






