وفاقی حکومت کو سندھ کے ان پٹ کوتیل اور گیس کی تلاش اور پیداواری کمپنیوں کے اس فریم ورک میں شامل کرنا ہوگا،مراد علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو سندھ کے ان پٹ کوتیل اور گیس کی تلاش اور پیداواری کمپنیوں کے اس فریم ورک میں شامل کرنا ہوگا جوان کمپنیوں کو اپنے 35 فیصد حصص نجی جماعتوں کو فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ سندھ کی رضامندی کے بغیر فروخت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن کے فریم ورک میں درج ذیل چیزوں کو شامل کرنے کی ہدایت کی۔

i ۔تھرڈ پارٹی کو فروخت کی جانے والی گیس صوبہ سندھ کے لیے ترجیح ہونی چاہیے۔ سندھ صوبے کے علاوہ کسی کو بھی گیس کی فروخت (35 فیصد میں) حکومت سندھ کی این او سی سے مشروط ہوگی۔

ii ۔صوبائی حکومتوں کو تیسری پارٹی کے گیس خریداروں سے گیس کی فروخت سے براہ راست E&P کمپنیوں کے ذریعے ونڈ فال لیوی وصول کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔

iii ۔پروڈیوسر تھرڈ پارٹی گیس کی فروخت کے لیے وزارت توانائی، پیٹرولیم ڈویژن، حکومت پاکستان اور متعلقہ صوبائی حکومتوں سے منظوری لے گا۔

iv ۔وفاقی حکومت (پیٹرولیم ڈویژن) کی طرف سے کنویں اور پیداوار سے متعلق حقیقی اعداد و شمار کے اشتراک کے لیے صوبہ سندھ کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے گا۔ مسودے کے فریم ورک میں صوبے کے ساتھ ڈیٹا اشتراک کی دفعات باقاعدگی سے شامل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ فریم ورک کو حتمی شکل دیتے وقت قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بنیادی چیلنجز پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تیل اور گیس کی پیداوار کے تازہ ترین اعدادوشمار باقاعدگی سے سندھ کے ساتھ شیئر کیے جائیں اور محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ وہ ونڈ فال لیوی کی ادائیگی کے لیے وفاقی وزارت پیٹرولیم کے ساتھ موثر انداز میں آگے بڑھے۔

مراد علی شاہ نے یہ بات محکمہ توانائی سندھ کی ذیلی کمپنی سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (SEHCL) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صوبائی وزیر توانائی ناصر حسین شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی مصدق طاہر خیلی اور ایس ای ایچ سی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر طفیل کھوسہ نے شرکت کی۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے تلاش کی سرگرمیوں کو وسعت دینے، ریونیو کے سلسلے کو بڑھانے اور ہائیڈرو کاربن کے ذخائر میں سندھ کے منصفانہ شیئر پر توجہ دی۔ انہوں نے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر توانائی ناصر شاہ، سیکرٹری انرجی مصدق طاہرخیلی اور سی ای او ایس ای ایچ سی ایل طفیل کھوسہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایس ای ایچ سی ایل کے موجودہ پورٹ فولیو، مالیاتی کارکردگی اور مستقبل کے روڈ میپ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

ناصر شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ایس ای ایچ سی ایل توانائی کی تلاش اور وسائل کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس وقت متعدد ایکسپلوریشن بلاکس میں کام کرنے کی دلچسپی رکھتی ہے اور 2014 سے اب تک ایکسپلوریشن میں 1.925 بلین روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔

اجلاس میں قابل ذکر کامیابی یعنی تین کنوؤں سے پیداوار کا آغاز ، جس سے پہلی بار SEHCLنے براہ راست آمدنی حاصل کی ہے۔ کمپنی26-2025 میں 113 ملین روپے کی نیٹ آمدنی کی توقع رکھتی ہے، شاہ بندر میں حال ہی میں دریافت ہونے والے گیس فیلڈ سے اضافی آمدنی کے امکانات موجود ہیں۔

حکمت عملی میں توسیع: مالی استحکام کو مزید بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے مراد علی شاہ نے اہم اقدامات کی منظوری دی جس میں زیادہ آمدنی کے لیے ورکنگ انٹرسٹ میں اضافہ بھی شامل ہے۔

ایس ای ایچ سی ایل SEHCL ا ایکسپلوریشن بلاکس میں 2.5 فیصد کام کرنے کی دلچسپی رکھتا ہے جس سے آمدنی متاثر ہوگی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ مستقبل میں ہونے والی دریافتوں میں زیادہ حصہ داری کو یقینی بناتے ہوئے انتہائی متوقع بلاکس میں کام کی دلچسپی کو 2.5 فیصد سے بڑھا کر10 سے 15 فیصد کیا جائے۔

ہائی دان بلاک کا حصول: وزیر اعلیٰ سندھ نے دادو، قمبر اور شہداد کوٹ اضلاع میں واقع ہائی دان بلاک (تیل اور گیس کی تلاش کا علاقہ) کے حصول کی منظوری دی۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں BCF 130-140 گیس کے ذخائر موجود ہیں اور یہ بلاک سرمایہ کاری کا ایک منافع بخش موقع پیش کرتا ہے۔

بلاک کی تفصیلات کے مطابق ایس ای ایچ سی ایل SEHCL 51 فیصدورکنگ انٹرسٹ برقرار رکھے گی، باقی 49 فیصد دیگر صنعت جیسے PPL، OGDCLیا MPCL کو دیے جائیں گے۔ پہلی گیس کی پیداوار کا تخمینہ Q1-2028 تک متوقع ہے، جس کا تخمینہ 23 سالوں میں1.64 ملین ڈالر (460 ملین روپے) کا سالانہ نیٹ کیش ہے۔ مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 20.3 ملین ڈالر ہے، جس میں SEHCL کا شیئر 10.35 ملین ڈالر (2.89 بلین روپے) ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک اقدام سندھ کو توانائی کی تلاش میں ایک سرکردہ کھلاڑی کے طور پر پیش کرتا ہے، جو طویل مدتی مالی فوائد اور معاشی استحکام کو یقینی بناتا ہے۔

ٹائٹ گیس اور آف شور پوٹینشل کی تلاش: وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے پاس قابل استعمال ذخائر موجود ہیں جنہیں ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا۔ خاص طور پر ٹائٹ گیس فیلڈز میں جس میں ممکنہ وسائل کا تخمینہ30-20 ٹی سی ایف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت آف شور ڈرلنگ کے مواقع بھی تلاش کر رہی ہے جو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

سندھ کے توانائی کے حقوق کا تحفظ: وزیراعلیٰ نے سندھ میں کام کرنے والی کمپنیوں – یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ اور او ایم وی الفا سے متعلق ونڈ فال لیوی (ڈبلیو ایل او) کے مسئلے پر بھی بات کیا – جس میں ڈبلیو ایل او کو نافذ کرنے کے حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہائیڈرو کاربن ریونیو میں اپنا جائز حصہ حاصل کرنے کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کرے۔

مزید برآں آئین کے آرٹیکل172(3) کے مطابق تیل اور گیس کے وسائل پر صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی ترامیم پر بات چیت ہوئی۔ سندھ گیس کی پیداوار میں کلیدی اسٹیک ہولڈر ہے اس لیے وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزارت پیٹرولیم سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سرکاری کمپنیوں (او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل، پی ایس او، جی ایچ پی ایل اور ایم پی سی ایل) میں اپنے نمائندوں کی تعداد دو سے کم کر کے ایک کر دے اور ان کی جگہ سندھ کے نمائندے شامل کیے جائیں۔

انرجی سیکیورٹی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے توانائی کے شعبے کو وسعت دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ وہ فوری منظوریاں حاصل کرکے تلاش کی سرگرمیوں کو تیز کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان وسائل کو صوبے کے لوگوں کے فائدے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کام کرنے کی رفتار کو بڑھا کر، نئے ایکسپلوریشن بلاکس کو تلاش کرکے اور اس میں اپنے جائز حصہ کی وکالت کرتے ہوئے توانائی کی آمدنی سے ایک مضبوط اور خود انحصار سندھ کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اجلاس میں کیے گئے اسٹریٹجک فیصلوں سے SEHCLاور سندھ میں توانائی کی صنعت کے لیے ایک اہم موڑ کو جنم دیا ہے۔ ایک مضبوط مالیاتی نقطہ نظر، اعلیٰ ممکنہ بلاکس میں توسیع اور فعال پالیسی اقدامات کے ساتھ، سندھ پاکستان کے توانائی کے منظر نامے میں ایک کلیدی کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔

مستقبل کی سوچ کے یہ اقدامات نہ صرف صوبائی محصولات میں اضافہ کریں گے بلکہ پاکستان کی مجموعی توانائی کی حفاظت میں بھی کردار ادا کریں گے ساتھ ساتھ سندھ کے مستحکم اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button