وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران بلدیاتی انتخابات کے لئے حلقوں کی نشاندہی (ڈیمارکیشن) کے جاری عمل کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو تحصیل ڈیمارکیشن آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ، ڈی جی احمد کمال مان اور ایڈیشنل سیکرٹری قراۃ العین موجود تھے جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ بلدیاتی حلقوں کی نشاندہی کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں کمشنر صاحبان سنیں گے اور چار روز کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ڈپٹی کمشنرز کو رُولز کے مطابق ورکنگ کرکے ٹائم لائن کے اندر کام مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت پہلی بار ٹاؤن کارپوریشنز اور تحصیل کونسلز بنیں گی۔ سات لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں میں ٹاؤن کارپوریشنز بن رہی ہیں جس سے نہ صرف شہریوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے بلکہ فنڈز بھی براہ راست انہیں منتقل کئے جائیں گے۔ لاہور، بہاولپور، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ، سرگودھا اور فیصل آباد میں ٹاؤن کارپوریشنز بنائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مری کو خصوصی طور پر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز ڈیمارکیشن کے بعد میونسپل اداروں کے نام تجویز کریں اور تمام عمل مقررہ وقت کے اندر مکمل ہونا چاہیئے۔ ڈیمارکیشن کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں (ڈی لمیٹیشن) کا کام کرے گا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کہا کہ ڈیمارکیشن آفیسر ہر میونسپل ادارے کی حدود کا بھی تعین کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کابینہ سے منظور شدہ رُولز کے مطابق تمام امور انجام دیے جائیں۔





