محکمہ زراعت، حیوانات و ماہی پروری گلگت بلتستان اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے مابین آلو کے بیج کی پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں ایک مفاہمتی یاداشت (MoU) پر دستخط ہوا۔ جس میں محکمہ زرعی تحقیق گلگت بلتستان کو حکومت جنوبی کوریا کا ترقیاتی ادارہ کوپیا(KOPIA) اور قومی زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

اس تقریب میں عزت مآب جناب پارک کے جن سفیر برائے پاکستان، حکومت جنوبی کوریا، ڈاکٹر غلام محمد چیئرمین زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد، جناب منصور عالم، سکیرٹری زراعت، حیوانات و ماہی پروری گلگت بلتستان، جناب چوگیونگرے، کنٹری ڈائریکٹر، کوپیا پاکستان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس یاداشت کے تحت حکومت جنوبی کوریا، گلگت بلتستان میں آلو کے بیج کی پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں اپنی فنی تعاوُن فراہم کرے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ملکی سطح پر تقریباََ آٹھ ملین ٹن آلو پیدا کیا جاتا ہے۔ جس کے لیے تقریباََ 842ہزار ٹن آلو کے بیج کی ضرورت ہے اور صرف 12 سے 15 ہزار میٹرک ٹن آلو کے بیج یورپین ممالک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ ملک میں اچھے آلو کے بیج کی عدم دستیابی کی وجہ سے آلوکی پیداوار دیگر ممالک کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ اس وقت محکمہ زراعت گلگت بلتستان صرف 20سے 25 میٹرک ٹن بیماری سے پاک آلو کے بیج تیار کر رہا ہے جو انتہائی ناکافی ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان کے بالائی علاقے کے موسمی حالات آلو کے بیج کی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اس ضمن میں کوپیا اور قومی زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد اور محکمہ زرعی تحقیق گلگت بلتستان کو بنیادی آلو کے بیج فراہم کرے گا جو محکمہ کی ٹشو کلچر لیبارٹریز اور زرعی فارمز میں اس کی پیداوار کو مذید بڑھائے گا۔ ان اقدامات سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان میں زمینداروں کو بیماری سے پاک آلو کے بیج کی فراہمی کسی حد تک یقینی بنائی جاسکے گی اور ملکی اور مقامی سطح پر آلو کی پیداوار اور آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔






