بلدیہ عظمٰی لاہور کے سابق چیف آفیسر اور موجودہ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد سید علی عباس بخاری نے کہا ہے کہ میسرز برادرز ایسوسی ایٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے صنعتی نقشے میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ایم سی ایل کی طرف سے کی گئی انکوائری رپورٹ میں بھی ان کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔

جس کی وجہ سے ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے لئے کوئی جواز نہیں نہ ہی ان کا اس کیس میں کوئی نام ہے۔جعلی دستخطوں اور اتھارٹی کو گمراہ کرنے،ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا کے حوالے سے لیٹر غائب کرنے اور نقشہ جاری کرنے والوں کا تعین کیا گیا ہے۔سید علی عباس بخاری نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی سفارشات مذکورہ صنعتی نقشے کی منظوری لے لئے ایڈمنسٹریٹر کو بجھوائی ہی نہیں تھیں اس لئے ان کا سابق ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر کے جعلی دستخطوں یا نقشہ منظوری میں سرے سے کوئی کردار یا عمل دخل نہیں ہے۔وہ قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔جو لوگ ملوث ہیں انکوائری رپورٹ میں حقائق بتا دیئے گئے ہیں جس میں انھیں بے قصور قرار دیا گیا ہے۔





