موجودہ ملکی حالات کو سدھارنے اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لئے میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرے،علی امین گنڈاپور کا صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

جب ہم نے اقتدار سنبھالا اس وقت صوبائی حکومت کے خزانے میں صرف 15 دنوں کی تنخواہ کے پیسے موجود تھے، ہم نے بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے ایک سال کے دوران بجٹ میں 169 ارب روپے کا سرپلس دیا ہے، ہم نے بغیر کسی نئے ٹیکس لگا کے صوبائی حکومت کے آمدن میں 55 ارب روپے کا اضافہ کیا، ہم نے گزشتہ حکومت کے 72 ارب روپے کے بقایاجات اداکئے، ترقیاتی منصوبوں کےلئے مختص رقم جاری کرنے کے علاوہ مزید 30 ارب روپے اضافی جاری کر رہے ہیں۔ہم نے ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ ساڑھے 13 سال سے کم کرکے ساڑھے 4 سال پر لے آئے، ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کے نتیجے میں خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا، ہم نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پالیسی بنائی ہے جس کے تحت صرف وہ کام کئے جائیں گے جو اپنے مقررہ مدت میں مکمل ہوسکیں.جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو صوبے پر 752 ارب روپے کا قرضہ تھا، اس ایک سالہ کے دوران ہم نے ایک روپیہ بھی قرضہ نہیں لیا بلکہ 50 ارب روپے قرضہ واپس بھی کیا، ہم نے قرضے اتارنے کےلئے 30 ارب روپے کے فنڈز سے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کیا یے، اس سال کے آخر تک اس فنڈ کو بڑھا کر 50 ارب روپے کیا جائے گا۔ ہم نے خسارے کے حامل اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے انڈومنٹ فنڈز قائم کئے، رواں سال کے آخر تک ہم ایسے تمام اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے، کرپشن ہمارے معاشرے کا ایک ناسور ہے، کڑی نگرانی، بہتر طرز حکمرانی اور ڈیجیٹائزیشن اس کے تدارک کا موثر ذریعہ ہیں، ہم نے اپنے نن ٹیکس ریونیو میں 55 فیصد اضافہ کیا ہے، یہ سب کچھ بہتر طرز حکمرانی اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے ممکن ہوا ہے. گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے تمام سکالر شپس اور وظائف ڈبل کئے، زکوٰة کی رقم کو 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار کردیا گیا، جہیز کی رقم کو 25ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا گیا۔ہم نے آتے ہی صحت کارڈ کو بحال کیا اور اس کے نرخوں میں 30 فیصد کا اضافہ کیا، صحت کارڈ میں اصلاحات اور موثر نگرانی کے ذریعے صوبائی خزانے کو ماہانہ ایک ارب روپے کی بچت ہو رہی ہے، ہم نے اس سال گندم کی خریداری میں 10 ارب روپے کی بچت کی۔آئی ایم ایف نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے جو ہم پر بین الاقوامی اداروں کے اعتماد کا اظہار ہے، ہماری ایک سالہ کارکردگی حقائق پر مبنی ہے اس میں زرا بھی مبالغہ نہیں۔ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، جبکہ تک عمران خان جیل میں ہیں ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں، ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کی اصل وجہ غلط پالیسیاں ہیں، افغانستان سے مذاکرات کئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اور کوئی بھی ڈائیلاگ عمران خان کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ عوام کی حمایت کے بغیر جیتنا ناممکن ہے، ہم آپریشن کی حمایت اس لئے نہیں کر سکتے کیونکہ آپریشنز کا کوئی فائدہ نہیں، عوام کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں اور بحیثیت عوامی نمائندے ہم عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں، موجودہ ملکی حالات کو سدھارنے اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لئے میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرے، ہم سب کو اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر وسیع تر ملکی مفاد کے لئے متحد ہونا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button