کراچی( 28 مارچ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مجوزہ چولستان کینال منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور سندھ کے آبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔میڈیا سےگفتگو میں انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی ) کی منظوری اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر فوری طور پرسی سی آئی کا اجلاس بلایا جائے۔
تاریخی پس منظر اور منصوبے کی مخالفت پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ چولستان کو نہری نظام کے ذریعے آباد کرنے کا خیال نیا نہیں ہے۔ یہ منصوبہ پہلی بار 1919 میں برطانوی دور حکومت میں پیش کیا گیا تھا لیکن برطانوی حکومت نے پنجاب کی تجویز یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ یہ علاقہ انسانی آبادی کے لیے موزوں نہیں ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ نگراں حکومت کے دور میں پنجاب حکومت نے اس اسکیم کو دوبارہ پیش کیا اور آبی وسائل کی مختص کے لیے ارسا سے این او سی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پنجاب کا مؤقف تھا کہ سالانہ 27 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری سے آگے بہہ جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کی وافر مقدار دستیاب ہے تاہم مراد علی شاہ نے ان اعداد و شمار کو غلط قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حقیقی پانی کے بہاؤ میں وقت کے ساتھ نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
متنازعہ پانی کی دستیابی
وزیر اعلیٰ سندھ نے تاریخی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1976 سے 1999 کے دوران کوٹڑی ڈاؤن اسٹریم پر پانی کا اوسط بہاؤ 35 ملین ایکڑ فٹ تھا۔ 2023 تک یہ اوسط کم ہو کر 27 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا جبکہ گزشتہ 25 سالوں میں مزید گھٹ کر صرف 17 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کم از کم 10 ملین ایکڑ فٹ کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس وقت کوٹڑی ڈاؤن اسٹریم پر صرف 8.5 ملین ایکڑ فٹ پانی پہنچ رہا ہے۔ان اعداد و شمار کے پیش نظر مراد علی شاہ نے پنجاب کے لیے اضافی پانی مختص کرنے کی منطق پر سوال اٹھایا اور کہا کہ سندھ کے آبی وسائل پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ صدر آصف علی زرداری نے اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر کسی بھی منصوبے کی منظوری نہیں دیتے اور وضاحت کی کہ ایسے معاملات متعلقہ حکومتی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان کے لیے صوبوں کا اتفاق ضروری ہوتا ہے۔مراد علی شاہ نے کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں شاہراہِ بھٹو منصوبے کی منظوری صدر زرداری نے نہیں دی۔ اسی طرح تھر کے بڑے ترقیاتی منصوبے بھی کسی صدارتی منظوری کے بغیر مکمل کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ اگرچہ صدر کسی منصوبے کی حمایت کر سکتے ہیں لیکن اصل فیصلہ سازی ارسا، ایکنک اور سی سی آئی جیسے صوبائی اور وفاقی اداروں کے تحت ہوتی ہے۔
چھ نہروں کا تنازعہ
مراد علی شاہ نے اس منصوبے کے تحت زیر بحث چھ نہروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دو نہریں پہلے سے موجود ہیں اور پرانے آبپاشی نظام کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں تجویز کردہ دو نہروں (تھر اور رینی کینال) پر بات ہوئی تھی لیکن ان پر باضابطہ عملدرآمد نہیں کیا گیا تاہم پنجاب میں تجویز کردہ دو نہریں چولستان کینال اور چوبارہ کینال (جو گریٹر تھل کینال کی توسیع کا حصہ ہے) اصل تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی سی آئی کی منظوری کے بغیر کوئی نئی نہر تعمیر نہیں کی جا سکتی اور اس معاملے پر اب تک سی سی آئی کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔
سی سی آئی اجلاس کا مطالبہ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس منصوبے کو باضابطہ طور پر سی سی آئی میں چیلنج کیا ہے اور ارسا کی جانب سے پانی کی تقسیم کی منظوری پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک سی سی آئی فیصلہ نہیں کرتی یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مراد علی شاہ نے مزید انکشاف کیا کہ چولستان میں پنجاب حکومت نے پہلے ہی گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت زمین مختص کر دی ہے جہاں آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل اور زیر زمین پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں 300 کلومیٹر طویل نہر تعمیر کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اسمبلی کی متفقہ مخالفت
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے چولستان کینال منصوبے کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت سندھ کی اپوزیشن جماعتیں بھی اس کے خلاف متحد ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے پر واضح مؤقف اختیار کریں اور جب تک مناسب مشاورت کا عمل مکمل نہیں ہوتا، اسے مسترد کریں۔سندھ حکومت چولستان کینال منصوبے کی سخت مخالفت پر قائم ہے کیونکہ اسے پانی کی قلت، قانونی خلاف ورزیوں اور بین الصوبائی اتفاق رائے کے فقدان پر شدید تحفظات ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حتمی فیصلہ اب وفاقی حکومت اور سی سی آئی کے ہاتھ میں ہے جس کا اس معاملے پر اجلاس ہونا باقی ہے۔






