وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں اچانک اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختلف محکموں میں تقسیم کر دیئے

وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں اچانک اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختلف محکموں میں تقسیم کر دیئے ۔ وہی وزیراعظم جو گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں کی فائلیں اپنے دفتر میں روک کر بیٹھے تھے، اب اقتدار جاتے دیکھ کر ایک ہی دن میں کروڑوں اور اربوں کی منظوریوں پر دستخط کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم انوارالحق کے خلاف ایوانِ قانون ساز اسمبلی میں عددی اکثریت 40 اراکین تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث اُن کی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتدار ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر وزیراعظم نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور چند پسندیدہ افسران و اضلاع کو نوازنے کے لیے ترقیاتی بجٹ کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔

Screenshot
Screenshot

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 27 اکتوبر کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں 12 ارب 16 کروڑ روپے کے فنڈز کی تقسیم کی منظوری دی گئی، جس میں سے 9 ارب 61 کروڑ روپے حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے، جبکہ 3 ارب روپے کا اضافہ محکمہ خزانہ آزاد کشمیر نے کیا۔اس سے قبل 27 اکتوبر کو بھی وزیراعظم نے اپنے آبائی ضلع بھمبر کے لیے محکمہ توانائی کے ڈیڑھ ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی تھی، جبکہ 28 اکتوبر کو مزید 3 ارب 72 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختلف محکموں میں تقسیم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 7 ارب 98 کروڑ 53 لاکھ روپے مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کو منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 4 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مزید تقسیم کے لیے دستیاب ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جون سے رُکی ہوئی سینکڑوں ترقیاتی اسکیمیں جن کی منظوری وزیراعظم دفتر سے مؤخر کی جا رہی تھی، وہ تمام فائلیں اب اچانک منظوری کے مرحلے میں پہنچا دی گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف انتظامی بے ضابطگی ہے بلکہ اخلاقی اور سیاسی طور پر بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ جب ایک وزیراعظم واضح طور پر ایوان کی اکثریت کھو بیٹھے، تو اسے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ لیکن چوہدری انوارالحق نے عہدہ چھوڑنے کے بجائے آخری ایام میں وزیراعظم ہاؤس کو فنڈز فیکٹری میں بدل دیا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد چوہدری انوارالحق کی جانب سے دستخط شدہ تمام ترقیاتی منظوریوں، تبادلوں اور نوٹیفکیشنز کو منسوخ کیے جانے اور اس کام میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا بھی قوی امکان ہے۔

جواب دیں

Back to top button