چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کے حکم پر خارس ہاؤس کی غیر قانونی مسماری پر تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ایس بی سی اے افسران اور بلڈنگ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔خارس ہاؤس کیس میں ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔تاریخی عمارت مسمار کرنے پر ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر ساؤتھ اشفاق حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر ساؤتھ آغا کاشف، اور جائیداد کی مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر سائوتھ اور ڈپٹی ڈائریکٹر سائوتھ کو معطل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔ کمشنر کراچی نے خارس ہاؤس کی غیر قانونی مسماری کی رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ کو جمع کروادی ہے۔رپورٹ کی روشنی میں ایس بی سی اے افسران اور مالک جائیداد کے خلاف ایف آئی آر درج اور ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ۔ خارس ہاؤس کی مسماری میں ایس بی سی اے افسران نے جان بوجھ کر قوانین کی خلاف ورزی کی۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق
تاریخی عمارت کو جان بوجھ کر عید کی تعطیلات کے دوران مسمار کیا گیا۔ رپورٹ میں عمارت کی مسماری میں ثقافت و ورثہ محکمہ کو نظر انداز کرنا سنگین غفلت قرار دیا گیا ہے۔خارس ہاؤس کیس میں سرکاری افسران اور مالک جائیداد کی ملی بھگت تھی۔ انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ

مسماری کے دوران ایس بی سی اے نے عدالتی حکم کا غلط حوالہ دیا۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کا تمام تاریخی عمارتوں کا سروے اور نقشہ سازی کا حکم دیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ ثقافت کو تاریخی عمارتوں کی ویجیلینس کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔






