وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے وزیراعلٰی مریم نواز کے لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام (ایل ڈی پی) پر ٹاؤن ہال میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کی سہولت کے لئے یہ وزیراعلٰی کا ایک تاریخی اقدام ہے جس سے شہر کی خوبصورتی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات و ثقافت عظمٰی بخاری، وزیراعلٰی کے معاونین خصوصی ذیشان ملک، راشد اقبال، ڈپٹی کمشنر سید موسٰی رضا، ایم ڈی واسا سید غفران احمد اور چیف آفسیر شاہد عباس کاٹھیا بھی موجود تھے۔ ایل ڈی پی کے لئے قائم کی گئی سٹیئرنگ کمیٹی کے کنوینر وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلٰی نے لاہور کیلئے 137 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے۔ پروگرام کا فوکس لاہور کے ماضی میں نظرانداز شدہ علاقے ہیں۔

پہلی بار دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرز پر لاہور کی گلیوں کو پہلی بار خوشنما رنگوں والی ٹائلز سے بنایا جا رہا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مرحلہ وار سٹریٹ لائٹس کی تنصیب یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پارکوں، سڑکوں، سیوریج سسٹم کی بحالی بھی اسی پروگرام کا حصہ ہے۔ وزیر بلدیات نے بتایا کہ برساتی پانی کے تمام ہاٹ سپاٹس پر نکاسی کی جامع سکیمیں جاری ہیں۔ امید ہے کہ موسم برسات سے پہلے انہیں مکمل کر لیا جائے گا۔ لاہور کے ہر شہری کو بنیادی خدمات کی فراہمی وزیراعلٰی کا ویژن ہے۔ ایل ڈی پی کے تحت لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کے دوران چھ زونز میں کام شروع ہے۔ اگلے مرحلے میں باقیماندہ 3 زونز میں بھی کام کیا جائے گا۔ وزیر بلدیات نے بتایا کہ ایم سی ایل اور واسا دونوں کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور دونوں ادارے متعلقہ محکموں کے تعاون کے ساتھ کام آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے ساتھ اسی پروگرام کو پورے پنجاب میں توسیع دی جا رہی ہے۔ تمام شہروں میں بنیادی میونسپل خدمات کا پروگرام بھی منظور ہوچکا ہے۔ پنجاب سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے پر کام جاری ہے۔ دو تین سال کے اندر یہ میگا پراجیکٹ مکمل کر لیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شجرکاری بھی ایل ڈی پی کا جزو ہے اور اس پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور سید موسٰی رضا نے میڈیا کو بتایا کہ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کا مقصد تباہ حال گلیوں اور سوریج کی بحالی ہے۔ وزیراعلٰی کی ہدایت پر واسا نے اپنے دائرہ کار میں توسیع کر کے نئی پائپ لائن بچھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر سپلائی کی نئی سکیموں کے ساتھ سیوریج کو بھی بہتر کیا جا رہا ہے۔ موسٰی رضا نے بتایا کہ پہلی بار وزیراعلٰی کی ہدایت پر پورے منصوبے کی ای ٹینڈرنگ کی گئی۔ تفصیلی سروے کے بعد فروری سے باضابطہ کام شروع کر دیا گیا۔ واسا لاہور اب تک 40 فیصد کام مکمل کر چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد این او سی کے بغیر کسی گلی میں کھدائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیسپاک تمام پراجیکٹ میں مانیٹرنگ کا کام کر رہا ہے۔ ای بلنگ متعارف کراکے تمام ادائیگی آن لائن طریقے سے کی جا رہی ہے۔ پریس بریفنگ میں واسا لاہور کے ایم ڈی سید غفران احمد نے بتایا کہ پروگرام کے تحت واسا کے دائرہ کار میں 50 فیصد ایریا کا اضافہ ہوا ہے۔ تین ماہ کے دوران 350 کلومیٹر کا پائپ بچھایا جائے گا اور یہ ایک طرح سے نئی تاریخ رقم ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کوشش کی گئی ہے کہ کھدائی سے راستے مکمل بلاک نہ ہوں۔





