خیبرپختونخوا، 25سالوں میں کسی نے بھی تحصیل لوکل فنڈ کو بڑھانے اور اداروں کی مضبوطی کے لئے سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا،عنبر نواز ایڈوکیٹ

ڈیرہ اسماعیل خان( بلدیات ٹائمز) صوبائی حکومت، محکمہ مالیات ، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور لوکل کونسل بورڈ نے گزشتہ چار سالوں سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے تحصیل لوکل فنڈز کے حصہ اور آئینی حق پراونشل فنانس کمیشن(PFC) کی ادائیگی سے TMAs کو محروم رکھا ہوا ھے جسکی وجہ سے بلدیاتی ادارے مفلوج اور دیوالیہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق بلدیاتی اداروں کو کمزور کرنے میں صوبائی حکومت کے اداروں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کا اھم کردار رہا ہے۔صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سالوں سے پراونشل فنانس کمیشن (PFC) جیسے آئینی حق سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کو محروم رکھا ہوا ہے جبکہ سال 1999 سے تاحال کسی نے بھی بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور تحصیل لوکل فنڈ کو بڑھانے کے لئے اقدام نہیں اٹھایا۔ جس کی وجہ سے بلدیاتی ادارے مالی طور پر کمزور سے کمزور تر ھوتے گئے۔بلدیاتی اداروں کے دیوالیہ پن کی وجہ سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ھیں اور بلدیاتی ملازمین کے بچے فاکوں کے شکار ھیں جب کہ گذشتہ 25 سالوں میں کسی نے بھی تحصیل لوکل فنڈ کو بڑھانے اور اداروں کی مضبوطی کے لئے سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا۔یکم جولائی 1999 سے میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلز کے بڑے ذرائع آمدن محصول اور ایکسپورٹ ٹیکس کو ختم کر کے اکٹرائے سٹاف اور ضلع کونسلز ٹیکس سٹاف کو سرپلس ڈیکلیئر کر دیا جس کی وجہ سے بلدیاتی ادارے سخت مشکلات سے دوچار ھو گئے اور ملازمین کئی کئی ماہ تک تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم ہو گئے ۔ اسی طرح سال 2001 میں لوکل کونسلز کی میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلز کو ختم کر کے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کا قیام عمل میں لا کر ضلع کونسلز کے سٹاف اور پنشنرز کو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کی ذمہ داری قرار دے دیا۔جس سے TMAs پر ضلع کونسلز کے سٹاف اور پنشنرز کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا جب کہ ضلع کونسلز کے ذرائع آمدن اور کیش بیلنس TMAs کو منتقل نہیں کئے گئے۔ سال 2014 میں پراونشل ھیڈ کوارٹر میں واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز اتھارٹی واسا کا قیام عمل میں لا کر بلدیاتی ملازمین واٹر سپلائی اور عملہ صفائی کی خدمات واسا کمپنی کے حوالے کر کے انکی تنخواہوں اور پنشن و دیگر آپریشنل اخراجات کی ادائیگی کے لئے متعلقہ TMAs کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے مطابق رورل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ختم کر کے انکی زمہ داری بھی TMAs پر ڈال کر RDD سٹاف کو بھی TMAs کے حوالے کر کے انکے سٹاف کے اور دیگر آپریشنل اخراجات کا اضافی بوجھ بھی TMAs پر ڈال دیا گیا ۔ اسی طرح صوبائی حکومت کی طرف عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے فائر فائٹنگ کے لئے ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا گیا اور TMAs کے عملہ فائر بریگیڈ کو 1122 میں ایڈجسٹ کرنے کی بجائے اپنے چہیتوں جو بھرتی کر کے بلدیہ کے عملہ فائر بریگیڈ کو غیر فعال کر کے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں اور غیر فعال عملہ کا اضافی بوجھ بھی تاحال TMAs کی ذمہ داریوں میں چلا آ رہا ھے ۔یہی نہیں بلکہ سال 2013 میں دوبارہ ضلع کونسلز اور RDDs کے نظام کو غیر فعال کر کے بقیہ عملہ اور پنشنرز کو بھی TMAs کے حوالے کر کے اضافی اخراجات TMAs کو ادا کرنے کا پابند بنا دیا گیا ۔ سال 2017 میں صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بھی واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز اتھارٹیز کا قیام عمل میں لا کر عملہ واٹر سپلائی و عملہ صفائی ہمراہ گاڑیوں اور مشینری واسا کمپنیز کے حوالے کر دی گئی اور جملہ اخراجات تنخواہوں ، پنشن و آپریشنل اخراجات بشمول بجلی بلز، پٹرول، آئل، مرمتی وغیرہ کے تمام اخراجات کی ادائیگیوں کا متعلقہ ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کو پابندکرکے بلدیاتی اداروں پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔اسی طرح ضلع کونسلز کے سٹاف اور پنشنرز کی ادائیگیوں کا اضافی بوجھ TMAs پر ڈالنے کے باوجود نہ تو ضلع کونسلز کی جائیدادیں اور کیش بیلنس متعلقہ TMAs کے حوالے کئے گئے اور نہ ہی تاحال ضلع کونسلز کا کیش بیلنس و مشینری گاڑیاں وغیرہ TMAs کے حوالے کئے گئے ہیں ۔ مزیدبرآں صوبائی حکومت کی طرف سے یکم جولائی 2020 سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کا 2 فیصد منتقلی جائیداد ٹیکس ختم کر کے مذکورہ ٹیکس کی وصولی بذریعہ عملہ ریونیو کر کے صوبائی خزانہ میں جمع کرتے رہے اور TMAs کو اسکی بروقت ادائیگی نہیں کی گئی اور دو سال کی ریکوری صوبائی خزانہ میں رکھنے کے باوجود تاحال TMAs کو ادائیگی نہ کر کے بھی بلدیاتی اداروں کو مفلوج و دیوالیہ بنا دیا گیا ۔ منتقلی جائیداد ٹیکس (پراپرٹی ٹیکس) کی مد میں تاحال صوبائی حکومت فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ تین ارب اسی کروڑ روپے کی رقم واجب الادا چلی آ رہی ہے ۔بلدیاتی اداروں سے وابستہ فیڈریشن کے پر زور مطالبہ پر یکم جولائی 2022 سے مذکورہ ٹیکس کی وصولی کی بحالی کے احکامات جاری کئے گئے ۔ ان تمام حالات و واقعات کے تناظر میں نہ تو تاحال صوبائی حکومت نے اور نہ ھی محکمہ بلدیات بشمول لوکل کونسل بورڈ،محکمہ مالیات اور دیگر حکومتی اداروں نے بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن بڑھانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہیں اور نہ ہی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کی مقامی انتظامیہ کو یعنی سٹی و تحصیل مئیرز و ممبران کونسلز اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے اعلیٰ حکام و افسران کو اس بابت اقدامات اٹھانے کی جرات ھوئی۔ جسکی وجہ سےدن بدن بلدیاتی ادارے مشکل سے مشکل ادوار سے گذر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں سے کئی کئی ماہ سے محروم چلے آ رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کے بچے بھوک و افلاس سے فاکوں کے شکار ھیں جبکہ بلدیاتی ادارے اپنے علاقے کی عوام کو فنانشل کرائیسز کی وجہ سے واٹر سپلائی ، صفائی ، فائر بریگیڈ ، سٹریٹ لائٹس ، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ھو رہی ھیں۔ یہاں ایک بہت ہی اھم سوال سامنے آتا ھے کہ کیا صوبائی حکومت، محکمہ بلدیات ، محکمہ مالیات، لوکل کونسل بورڈ اور دیگر حکومتی ادارے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت عوامی نوعیت کے اھم بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کے اداروں کی مضبوطی اور بلدیاتی اداروں کو فنانشل کرائیسز سے نکالنے اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ذمہ دار و پابند نہیں ھے اور مقامی حکومتوں کے سٹی مئیرز ، چئیرمینز و ممبران اور تحصیل میونسپل آفیسرز دیگر تحصیل آفیسرز ریگولیشن و انفراسٹرکچر اور فنانس کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کے تحصیل لوکل فنڈ کی مضبوطی اور ٹیکسز پر نظرِ ثانی کر کے فنڈز جنریٹ کرنا نہیں ھے اگر نہیں ھے تو بلدیاتی اداروں کے میئرز ، ممبران اور آفیسرز سالانہ کروڑوں روپے تنخواہوں ، الاونسز ، اعزازیہ، پٹرول، گاڑیوں، ٹریولنگ اور ڈیلی الاونس کی مدات کے کس کھاتے میں وصول کر رہے ھیں۔پاکستان ورکرز فیڈریشن خیبرپختونخوا جنوبی ریجن کی عہدیدار عنبر نواز ایڈوکیٹ نے صوبائی حکومت، وزیراعلی خیبرپختونخوا ، وزیر خزانہ ، وزیر بلدیات، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی ، سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ اور صوبہ بھر کی لوکل کونسلز کے سٹی مئیرز و چئیرمینوں اور ممبران سے بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور عوامی فلاحی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کےلئے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ کرونا وباء کے دوران ختم کئے گئے تمام ٹیکسز اور ریونیو کی بلاتاخیر بحالی اور منتقلی جائیداد ٹیکس کی مد کے تین ارب اسی کروڑ روپے کی ادائیگی یقینی بنائے اور PFC فنڈ کی ادائیگی بھی TMAs کو یقینی بنا کر بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائیں۔

جواب دیں

Back to top button