دیہی صفائی پروگرام خیبرپختونخوا، ملازمین کی خدمات یومیہ بنیادوں کی بجائے مستقل بنیادوں پر حاصل کی جائیں،ناصر خان آفریدی

خیبرپختونخوا حکومت کا دیہی علاقوں کی صفائی کا اقدام قابل تحسین ھے مگر اس کام لئے یومیہ یعنی دیہاڑی دار عملہ کی تعیناتی کرنا قرین انصاف نہ ھے۔قبل ازیں صوبہ بھر میں واسا کمپنیوں میں گزشتہ 10 سال سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ہزاروں کمپنی کیڈر ملازمین کو مستقلی کے منتظر چلے آ رہے ہیں جب کہ دیہی علاقوں کی صفائی کےلئے یومیہ اجرت پر 8,244 نئی بھرتی کا فیصلہ قابل واپسی اقدام ھے کیونکہ عارضی ملازمین کے سروں پر بےروزگاری کی تلوار ہر وقت لٹکتی رہتی ھے اور اگر نئے ملازمین کی بھرتی درکار ہے تو مستقل بنیادوں پر نئے ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ نجکاری یا ٹھیکہ داری نظام پر کوئی اعتراض نہیں اگر اعتراض ہے تو نجکاری کمپنی یا ٹھیکہ داری کے ذریعے ملازمین کے حقوق کو پامال کرنے پر ھے ملازمین کے حقوق کی پامالی اور ملازمین کا استحصال فورآ بند کیا جائے۔ مراعات یافتہ طبقہ افسران (وزراء و گریڈ 17 سے اوپر) کو اگر لاکھوں روپے تنخواہیں، گاڑیاں، پروٹوکول و دیگر سہولیات حاصل ہیں، تو پھر نچلے طبقے کے ملازمین کو یومیہ اجرت پر رکھنا دوہرے معیار اور ریاستی استحصال کے مترادف ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے یومیہ اجرت پر بھرتی کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ھوئے کہا کہ ملازمین کا مزید استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداران اور خادم کمپنی کیڈر ملازمین ناصر خان آفریدی نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ حکومت کے غیر دانشمندانہ فیصلہ پر نظرِثانی کی جائے اور ملازمین کی خدمات یومیہ بنیادوں کی بجائے مستقل بنیادوں پر حاصل کی جائیں اور کمپنی کیڈر ملازمین کی سروسز بھی مستقل کی جائے اور ہر نئی بھرتی آئینِ پاکستان، مروجہ لیبر لاز اور بنیادی انسانی حقوق و وقار کے مطابق عمل میں لائی جائیں.

جواب دیں

Back to top button