یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں *ورلڈ پریس فریڈم ڈے* کے موقع پر سیمینار کا انعقاد

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں میڈیا اور کمیونیکیشن اسٹڈیز کے شعبہ نے ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ یہ دن آزاد، خودمختار اور بااخلاق صحافت کے معاشرے میں بنیادی کردار کو تسلیم کرنے اور خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔اس موقع پر معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلے مہمان ڈاکٹر مصطفیٰ کمال، جو کہ تجربہ کار نشریاتی صحافی، معلم اور ٹرینر ہیں۔ میڈیا انڈسٹری میں کئی دہائیوں کے تجربے کے حامل ڈاکٹر کمال ریڈیو لاہور اور ریڈیو کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بے شمار اُبھرتے ہوئے صحافیوں کی رہنمائی کی ہے اور پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقیات اور استقامت کو ذمہ دار صحافت کی بنیاد قرار دیا ہے۔دوسرے معزز مہمان محمد ناصرالحق ہاشمی، جو روزنامہ پاکستان کے میگزین ایڈیٹر اور لیڈرز میڈیا نیٹ ورک کے سینئر نائب صدر ہیں۔ وہ ادارتی دیانتداری اور پاکستان میں پریس کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے پُرجوش حامی سمجھے جاتے ہیں۔اس موقع پر سابقہ انچارج شعبہ تعلقات عامہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور مہر عبدالروف و بانی ممبر میس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔ڈیپاٹمنٹ کے اساتذہ و طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مہمانوں کا تعارف کروانے کے بعد ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ اور ذاتی تجربات کی روشنی میں قیمتی نکات بیان کیے۔ انہوں نے میڈیا میں بدلتے رجحانات پر بات کی اور طلباء کے اس عام مغالطے کو دور کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھنے کے بعد ریڈیو اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ ریڈیو سامعین کی تعداد لاکھوں سے کم ہوکر ہزاروں تک آ چکی ہے، لیکن صحافت میں ریڈیو اب بھی ایک مؤثر اور ناقابلِ تلافی ذریعہ ہے۔ڈاکٹر کمال نے زور دیا کہ پریس کی آزادی اچھی حکمرانی، آزاد صحافت اور سچائی سے جُڑی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے میڈیا میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی رویّوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعہ کا ذکر کیا، جس میں ایک انٹرویو لینے والے نے مہمان سہیل وڑائچ سے غیر مناسب سوال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ سوال کرنے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس آزادی کا غلط استعمال کریں۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ سوالات عزت و اخلاق کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔

انہوں نے موجودہ میڈیا منظرنامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کئی ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز صرف وائرل سوشل میڈیا ٹرینڈز کے پیچھے چلتے ہیں، جس سے صحافتی سچائی اور اخلاقیات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ "پریس فریڈم” نہیں، بلکہ اس کی غلط تشریح ہے۔ اصل آزادی وہی ہے جو سچائی، دیانت اور خودمختاری پر مبنی ہو۔ سچ کے بغیر، آزادیِ صحافت کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔ڈاکٹر کمال نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران میڈیا کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر بھارتی چینلز نے کس طرح جھوٹی اور بگڑی ہوئی خبریں نشر کیں۔ ایسی گمراہ کن معلومات عوام کی سوچ پر منفی اثر ڈالتی ہیں، خاص طور پر جب وہ تصدیق کے بغیر سنی جاتی ہیں۔اختتام پر انہوں نے نوجوان صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ ظفر علی خان جیسے عظیم صحافیوں سے سبق سیکھیں اور ایک سچے، بااخلاق اور دلیر صحافی بننے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کی بصیرت افروز گفتگو کے بعد محمد نصیر الحق ہاشمی کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ انہوں نے زبان کی اہمیت اور درست استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مؤثر اور باادب انداز میں بات کریں، تو لوگ سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی بات درست طریقے سے نہ کہہ سکیں تو جیسے ہمارے سامنے ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے، اور اگر اسے استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو تو ہمارے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹی وی پر خبریں سنسنی خیز انداز میں پیش کی جاتی ہیں، جبکہ اخبارات میں خبریں ان کی اہمیت اور دستیاب جگہ کے مطابق شائع ہوتی ہیں۔ انہوں نے ایڈیٹوریلز پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عالمی حالات سے باخبر رہا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اخبارات نظریاتی ہوا کرتے تھے، لیکن اب وہ ٹرینڈز اور مانگ کے تابع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں تعلیم یافتہ افراد بھی غیر ذمہ دار رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک یورپی ایجنڈا ہے تاکہ ترقی پذیر اقوام ترقی نہ کر سکیں۔انہوں نے پاکستان کی آزادی کے وقت کے حالات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اُس وقت وسائل کی شدید کمی تھی، لوگ کاغذات جوڑنے کے لیے کانٹے استعمال کرتے تھے۔ 1980ء تک بجلی کا تصور بھی بہت محدود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنا ماضی اور حال یاد رکھیں تو ہی ہم بامقصد تحریریں لکھ سکتے ہیں۔انہوں نے موجودہ دور کے طلباء پر تنقید کی کہ وہ صرف وہی پڑھتے ہیں جو امتحان میں آنے کی توقع ہو۔ اس طرح کی محدود مطالعہ کی عادت دوسروں کے علم پر انحصار پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ چھوٹے چھوٹے جھوٹ، جانے انجانے میں، بڑے مسائل پیدا کر دیتے ہیں جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی صرف اُسی وقت قیمتی ہوتی ہے جب ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں — الفاظ کی طاقت اور خیالات کی وقعت کو پہچانیں۔ تبھی ہم صحافت کی آزادی کا حقیقی جشن منا سکتے ہیں۔اختتامی الفاظ میں انہوں نے خود احتسابی کی تلقین کرتے ہوئے کہا:”جب آپ یہاں سے جائیں تو خود سے سوال کریں — آپ کس قسم کے صحافی بننا چاہتے ہیں؟ سچے یا جھوٹے؟ سوشل میڈیا، ٹی وی یا پرنٹ میں آپ کیسے خبر ایڈٹ کریں گے؟ کیسے عوام تک پہنچائیں گے؟ کن حقائق کو سامنے لائیں گے؟ یہ سوالات آپ کے لیے ہم سے زیادہ اہم ہیں۔”سیمینار کے اختتام پر طلباء نے مہمانانِ گرامی سے سوالات کیے، اور ڈین SMCS ڈاکٹر انجم ضیاء نے ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے کامیاب سیمینار کے پیچھے ہمارے محنتی طلبہ اور اساتذہ کی کاوش ہے جس میں رابعہ فاروق ٹیچر کی محنت شامل ہے ۔جس سے طلبہ کو کافی رہنمائی حاصل ہوئی ہے ۔سیمینار طلبہ آخر میں معزز مہمانوں کو یونیورسٹی کی جانب سے یادگار شیلڈز پیش کی گئیں

جواب دیں

Back to top button