پنجاب یونیورسٹی اور پیسٹیکان سیڈز کے درمیان چاول کی نئی ہائبرڈ ورائٹی PU-786 کی کمرشلائزیشن کا معاہدہ طے پا گیا

پنجاب یونیورسٹی نے وہان یونیورسٹی چین کے اشتراک سے تیار کردہ ہائبرڈ چاول کے بیج کی کمرشلائزیشن کیلئے پیسٹیکان سیڈز سے معاہد ہ کر لیا۔ چاول کی اس نئی ہائبرڈ ورائٹیk PU-786سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار تین گنا بڑھ کر 140 من فی ایکڑ ہو جائے گی جو پاکستان میں چاولوں کی ایکسپورٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کر دے گی۔ یہ ہائبرڈ چاول پاکستان میں تیار ہونے والا پہلا ہانگ لیان قسم کاہائبرڈ چاول ہے، پنجاب یونیورسٹی اور وہان یونیورسٹی چین کے سائنسدانوں نے مل کر ہائبرڈ چاولوں کی یہ نئی قسم ایجاد کی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس اور پیسٹیکان سیڈز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا انعقاد وائس چانسلر آفس میں ہوا۔اس موقع پرپنجاب یونیورسٹی کے پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود،چیف ایگزیکٹیوآفیسر پیسٹیکان گروپ محمد شاہد،ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسزپروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق،ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کلاسر، ڈا ئریکٹر اورک انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام، ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ پیسٹیکان گروپ نوید سلیم،سیڈ مینجر پیسٹیکان سیڈز محمد ذیشان الحسن، سینئر لاء آفیسرعلی نواز ودیگر نے شرکت کی۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی کو پاکستان میں چاول کی ہائبرڈ ورائٹیPU-786 کی مارکیٹنگ اور فروخت کا اختیار حاصل ہوگا۔کمپنی کو پاکستان میں چاول کی مذکورہ ورائٹی کی مارکیٹنگ اور ڈسٹری بیوشن کے خصوصی حقوق حاصل ہوں گے۔معاہدے کے مطابق کمپنی چاول کی ورائٹی PU-786کی درآمد، مارکیٹنگ اور فروخت کی ذمہ دار ہوگی۔معاہدے کے تحت پنجاب یونیورسٹی کو سیلز کے مطابق رائلٹی ادا کی جائے گی۔ کمپنی تمام ریگولیٹری منظوریوں اور سیڈ سرٹیفیکیشن کی ذمہ دار ہوگی۔ معاہدے سے پنجاب یونیورسٹی اور ووہان یونیورسٹی چین کی مشترکہ تحقیق سے تیار کردہ ورائٹی کی کمرشلائزیشن بھی ممکن ہوگی۔چیئرمین شعبہ پلانٹ بریڈنگ جنیٹکس ڈاکٹر محمد اشفاق کے مطابق نئے چاول کا کامیاب تجربہ پاکستان کے چار صوبوں کے مختلف شہروں میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نئے ہائبرڈ چاول کی تیاری دس سالہ تحقیق اور تجربے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ چاول کی نئی اقسام کو PU-786 کے نام سے رجسٹرڈ کرایا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ہائبرڈ چاول بیکٹیریائی بیماریوں کے خلاف مزاحمتی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا ہائبرڈ چاول شدید گرمی اور خطرناک کیڑوں کے خلاف بھی مزاحمتی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈاکٹراشفاق کے مطابق نیا ہائبرڈ چاول قومی سطح پر چاول کی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ریسرچ انووویشن اینڈ کمرشلائیزیشن کے تحت ہونے والا پہلا معاہدہ ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ نیا ہائبرڈ چاول پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا ہائبرڈ چاول پاکستان اور چین کی جامعات میں مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں کو مزید فروغ دے گا۔انہوں نے کہا کہ نیا ہائبرڈ چاول غذائیت میں بھی شہریوں کے لئے مفید ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ تین گنا ذیادہ پیداوار سے عام کسان کو فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ منظور شدہ نیا ہائبرڈ چاول دنیا بھر میں پاکستانی چاول کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کا بنیادی کام ملک، قوم اور صنعتی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ پلانٹ بریڈنگ جینیٹکس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق اورڈاکٹر محمد علی کلاسرا جبکہ وہان یونیورسٹی چین سے پروفیسر رنشان ژو، ڈاکٹر ژیانٹنگ وو، شو و دیگر تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے۔ تکنیکی مراحل کی تکمیل کے بعد پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل نے نئے ہائبرڈ چاول کی منظوری دی۔

جواب دیں

Back to top button