سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں پنجاب کیٹل مارکیٹ اینڈ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمپنی کی کارکردگی، جاری منصوبہ جات کی رفتار، مویشی منڈیوں کی حالیہ نیلامیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال ہاشم نے کمپنی کی اب تک کی کارکردگی اور مختلف منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ احمد سہیل کیفی اور سیکشن آفیسر کمپنیز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو مویشی منڈیوں میں ہونے والی حالیہ نیلامیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی گئیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے اور آمدنی کے درست تخمینے کے لیے اجلاس میں جدید ای ٹکٹنگ سسٹم متعارف کرانے پر بھی مشاورت کی گئی۔ شکیل احمد میاں نے کہا کہ اوورچارجنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، اور ای ٹکٹنگ کا نظام اس حوالے سے ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ لاہو میں ماڈل مویشی منڈی پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ فیصل آباد میں اسی طرز کے منصوبے میں 64 فیصد فزیکل پراگریس حاصل کی جا چکی ہے۔ دونوں منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی انہیں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے اجلاس میں اعلان کیا کہ شمالی لاہور میں ایک اور جدید مویشی منڈی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، جو شاہ پور کانجراں ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی جائے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہدایت کی کہ تعمیر سے قبل مکمل فزیبیلٹی اسٹڈی کروائی جائے تاکہ علاقے کی ضروریات، ٹریفک کے دباؤ، کاروباری مواقع اور دیگر شہری سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئی منڈی کے قیام سے کاروبار کو سہولت ملے گی اور تاجروں کے لیے ایک منظم، صاف ستھرا اور محفوظ ماحول میسر آئے گا۔شکیل احمد میاں نے یہ بھی واضح کیا کہ لاہور اور فیصل آباد کے بعد پنجاب کے مزید تین شہروں میں ماڈل مویشی منڈیاں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان منڈیوں کے ڈیزائن جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیے جائیں، جہاں نہ صرف خریداروں اور بیوپاریوں کو سہولت حاصل ہو بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ بھی ملے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت، جدت اور ڈیجیٹلائزیشن کو کمپنی کی پالیسی کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ میں بہتری لائی جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ ماڈل منڈیوں کے قیام سے نہ صرف شہروں میں کاروباری نظام منظم ہو گا بلکہ دیہی علاقوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے پنجاب حکومت کے لائیو سٹاک ترقیاتی وژن کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مویشی پال کسانوں، خریداروں، اور تاجروں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب کیٹل مارکیٹ کے نظام کو شفاف، فعال اور دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
Read Next
3 دن ago
نو دیہات کو مثالی بنانے کا کام مکمل کر لیا گیا،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
4 دن ago
*سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس*
5 دن ago
پی ڈی پی:51 شہروں میں 87 انڈرگراؤنڈ ٹینک مکمل،اضافی ٹینکس بنانے پر کام شروع ہوگیا ہے، وزیر بلدیات ذیشان رفیق
6 دن ago
کسی جگہ مشینری کی کمی ہے تو سیکرٹری بلدیات کے نوٹس میں لایا جائے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا چیف افسران سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں خطاب
1 ہفتہ ago
شدید بارشوں کے دوران صفائی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی عمر جاوید کا گوجرانوالہ کا دورہ
Related Articles
ڈسکہ شہر کے بازار محلے گلیاں اور سڑکوں پر موجود بارش کے پانی نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
1 ہفتہ ago
نئے تعینات ہونے والے ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی عمر جاوید نائٹ آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچ گئے
1 ہفتہ ago
*پنجاب سپیشئل پلاننگ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں تعیناتی کے طریقہ کار اور مالی معاملات کی منظوری دے دی گئی*
1 ہفتہ ago
سُتھرا پنجاب: یونین کونسلز میں بیٹ سسٹم پر 92 فیصد عملدرآمد، 20 میونسپل کمیٹیز کی ڈیجیٹل میپنگ مکمل
2 ہفتے ago

