پشاور( بلدیات ٹائمز)خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں سے PUGF اور Non-PUGF کی تفریق ختم کر کے برابری کے حقوق دیئے جائیں ۔بلدیاتی اداروں کے نان پی یو جی ایف عملہ کئی کئی ماہ تک تنخواہوں اور پنشن کے لئے مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بلدیاتی اداروں کے اکثریتی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ملازمین اور پنشنرز کئی کئی ماہ کی تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں جن میں TMAs ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ہنگو، بنوں، سرائے نورنگ ، کرک ، لاچی ، اوگی، تنگی، چترال ، بٹخیلہ اور کئی دوسری TMAs شامل ہیں جن کے ملازمین اور پنشنرز کے بچے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بھوک و افلاس کی وجہ سے فاکوں کے شکار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ھے۔نہ کوئی بلدیاتی اداروں کے فنڈز بڑھانے کی کوشش کرتا ھے اور نہ ہی بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کی مشکلات میں کمی کے لئے کردار ادا کرتا ہے۔ ان اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کے مطابق ان بلدیاتی اداروں کی امدن کا کوئی حساب کتاب نظر نہیں آتا اور وہاں پر تعینات آفسران کو صرف اپنے بلز نظر اتے ہیں اور آمدن بلدیہ کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوتی اور حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لئے جو گرانٹس آتی رہیں ان کا بھی غلط استعمال کیا جاتا رہا ۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداران سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چئیرمین محبوب اللہ ، صدر حاجی انور کمال خان مروت اور جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران ان بلدیاتی اداروں کو حکومت کی طرف سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لئے جاری کردہ گرانٹس کی تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور خصوصی آڈٹ کرایا جائے کہ آیا ان گرانٹس کا کیوں غلط طور پر استعمال کیا گیا اور کیوں ان اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور ہنشن کے بقایاجات کی ادائیگی عمل میں نہیں لائی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔






