اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی تنظیمی تشکیل نو کا فیصلہ،نئے ایکٹ کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جگہ ایک خود مختار اور موثر اینٹی کرپشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا،علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا اجلاس منعقدہوا ۔ وزیراعلٰی کے مشیر برائے اینٹی کرپشن بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کے علاوہ دیگر متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، چیف سیکریٹری، اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تنظیمی تشکیل نو کا اصولی فیصلہ کیا گیا ۔ اس مقصد کے لئے نئے ایکٹ کا نفاذ کیا جائے گا۔ نئے ایکٹ کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جگہ ایک خود مختار اور موثر اینٹی کرپشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مجوزہ اینٹی کرپشن فورس ایکٹ کے مسودے کو جلد حتمی شکل دیکر منظوری کے پیش کرنے کی ہدایت کیاجلاس کو اینٹی کرپشن فورس اور مجوزہ ایکٹ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی جس کے مطابق

مجوزہ ایکٹ وائٹ کالر کرائم کے سدباب کے لئے ایک موثر اور جامع قانون ہوگا، مجوزہ قانون کے تحت اینٹی کرپشن کا اپنا ایک مخصوص فورس قائم کیا جائے گا. اس مقصد کے لئے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر متعلقہ شعبے کے ماہرین کو بھرتی کیا جائے گا۔

نئے تنظیمی ڈھانچے کے تحت چھ ریجنل اور دو سب ریجنل دفاتر قائم کئے جائیں گے، ان دفاتر میں متعلقہ شعبے کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تعینات ہونگی جو انسداد بدعنوانی کے لئے مضبوط قانونی بنیادوں پر کیسز تیار کریں گے، اینٹی کرپشن فورس کے قیام سے موجودہ ایک سے دو فیصد کنوکشن ریٹ کو 80 فیصد تک لے جانے میں مدد ملے گی۔ اینٹی کرپشن کے نئے نظام میں ریکوری کی شرح کو خاطر خواہ حد بڑھانے کا ایک قابل عمل میکنزم دیا جائے گا، ڈائریکٹ ریکوری کی موجودہ شرح کو 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے سالانہ جبکہ ان ڈائریکٹ ریکوری کی موجودہ شرح کو دو ارب سے بڑھا کر پانچ ارب سالانہ کیا جائے گا۔درج شدہ شکایات اور زیر تفتیش کیسز کو بھی تیز رفتاری سے نمٹانے میں مدد ملے گی، مجوزہ ایکٹ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کرپشن کے خلاف حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ آگاہی مہم، بدعنوانی کے تدارک اور انفورسمنٹ تینوں پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جھوٹی شکایت کے اندراج اور تحقیقات میں بددیانتی کے خلاف بھی سزا دی جائے گی، گواہوں کو تحفظ دیا جائے گا اور فورس کے اندر احتساب کا ٹھوس نظام موجود ہو گا۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے عین مطابق صوبے میں اینٹی کرپشن کے نظام کو مضبوط اور موثر بنایا جا رہا ہے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تشکیل نو اور اتھارٹی کے قیام کا مقصد بدعنوانی کا موثر تدارک کرنا ہے، موجودہ صوبائی حکومت بانی چئیرمین کے وژن کے مطابق کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، اینٹی کرپشن کے ادارے کو نئے خطوط پر استوار کرنے سے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ لوگوں کو بے جا ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔

جواب دیں

Back to top button