ڈپٹی کمشنرلورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ضلعی ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس

ڈپٹی کمشنرلورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ضلعی ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نورعلی کاکڑ،فرزند ایم پی اے افضل خان اوتمانخیل،ایف سی میجر حسن،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان حمزہ زئی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمدمدثر،ایکسین بی انیڈ ر محمد داود،ایکسین پی ایچ ای محمدعلی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمٹ کلیم اللہ مندوخیل ایس ڈی او ایرگیشن احمد شاہ،ایس ڈی او بی انیڈ ر قیوم کبزئی،محکمہ اطلاعات کے محمودبلوچ سمت تمام محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کردہ فنڈز کے موثر استعمال سے متعلق مختلف امور زیر غور آئے۔ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈز پینے کے صاف پانی،صحت ،تعلیم شہر کے دروڈز،چیک ڈیمز،شہر کے خوبصورتی سمت دیگر اسکمیات شامل ہے جو کہ فنڈز عوام کے فلاح وبہبود پر خرچ ہونگے انہوں نےہدایت کی کہ فوری طور پر پی سی ون تیار کیا جائے، جبکہ دور دراز ک سولر سسٹم کی، بس اڈوں اور عوامی مقامات پر پبلک ٹوائلٹس ، انتظار گاہوں کی تعمیر، اور فلٹریشن پلانٹس کو فعال بنانے جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔ڈی سی نے تمام محکموں کو پیر تک پی سی ون جمع کرانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ڈپلی کیشن یا اوور لیپنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہرکے روڈ وں کی مرمت کے لیے بی اینڈ آر کے قلیوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی، جبکہ سڑک کی مرمت کے لیے ایکسکیویٹر وومن ڈویلپمنٹ کی عمارت اور بس اڈے کو بجلی کی فراہمی کے لیے کیسکو حکام کو فوری اسٹیمیٹس بنانے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ، ناکارہ اسکول عمارتوں کی بحالی اور شہر میں نئی پائپ لائن بچھانے کے لیے بھی پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے تین مراحل میں مکمل کیے جائیں گے اور اگر کوئی منصوبہ غیر موثر یا عوامی مفاد سے مطابقت نہ رکھتا ہو، تو اس پر دوبارہ بحث کی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں سیکیورٹی و دیگر اداروں کی مشاورت سے فیصلے اور سفارشات مرتب کی گئیں۔

جواب دیں

Back to top button