وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت صوبے بھر میں مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کا چوتھا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں مئیر کراچی مرتضی وہاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ وسیم شمشاد، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، ڈائریکٹر مشتاق سومرو، جماعت اسلامی کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر ایڈوکیٹ سیف الدین، چیئرمین آباد حسن بخشی، وائس چیئرمین سید افضال حمید، پاکستان انجنئیرنگ کونسل کےانجنئیر نیاز احمد، پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹ کے عارف بلگامی، آرکیٹیکٹ سید عارف شاہ، فریال سکندر، ڈپٹی کمشنر ساوتھ جاوید نبی کھوسو، ایم سی لیاری حماد این ڈی خان اور دیگر موجود تھے۔غیر قانونی تعمیرات اور مخدوش عمارتوں کے خلاف اہم پیشرفت بارے اجلاس میں بریفنگ دی گئی۔اب تک کراچی کی 588 میں سے 253 عمارتوں کا دوبارہ سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔ایس بی سی اے قوانین میں سخت ترامیم اورسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایکٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کی۔






