وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران شہروں بالخصوص کمرشل علاقوں میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت دوسری شفٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، ایل ڈبلیو ایم سی کے سی ای او بابر صاحب دین،ایس او کمپنیز ندیم اسلم بھی موجود تھے جبکہ دیگر ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ مصروف تجارتی مراکز میں صفائی برقرار رکھنے کیلئے اضافی اقدامات ضروری ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعلی مریم نواز شریف نے جو ہدایات جاری کی ہیں ان پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ اضافی اقدامات کے لئے تمام ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو ہر ممکن وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ تجرباتی مرحلہ گزر چکا ہے اور اب ستھرا پنجاب پروگرام کو ایک سسٹم میں تبدیل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے سی ای اوز کو ہر گائوں میں ویسٹ انکلوژر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے مانیٹرنگ کیلئے ہر ضلع میں اسسٹنٹ کمشنر (ایچ آر) کو ذمہ داریاں سونپنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹرز کی نگرانی کے لئے دیہات میں ہر دو یونین کونسلوں جبکہ شہروں میں 70 ہزار کی آبادی کے لئے ایک فیلڈ مانیٹرنگ آفیسر (ایف ایم او) لگایا جائے گا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ گندگی پھیلانے پر مقامی حکومتوں کے ذریعے جرمانے کا میکانزم بنائیں گے۔ اس کے لئے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلی مریم نواز کے مقرر کردہ اہداف کا سو فیصد حصول ہمارا مقصد ہے۔ دیہات میں صفائی کی سہولیات مہیا کرنے کا تجربہ حوصلہ افزا رہا۔ اس میں بتدریج بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر گاؤں کے داخلی راستے پر کنٹریکٹر کی تفصیل اور ہیلپ لائن پر مشتمل بورڈ لگایا جائے تاکہ لوگوں کو شکایات کے اندراج میں پریشانی نہ ہو۔ سی ای اوز ہر کنٹریکٹر کی طرف سے جمع کرائے گئے صفائی ماڈل پر عملدرآمد کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں میں آگاہی مہم کا دائرہ کار دیہات تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ آگاہی مہم کی کامیابی منتخب عوامی نمائندوں کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ وزیر بلدیات نے زور دیا کہ ہر گائوں کے تقاضے الگ ہوتے ہیں لہذا سی ای اوز دیہات کے باقاعدگی سے دورے کر کے اقدامات کریں۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز سے اضافی انسانی وسائل اور مشینری کی ڈیمانڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت مانیٹرنگ کے ڈیجیٹل نظام کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عملے کی حاضری اور اہداف کے حصول پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔





